چنیوٹ ( رپورٹنگ آن لائن) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی علمبردار ہے اور تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے ،جمہوریت کا راستہ بات چیت سے ہی نکلتا ہے،یہ نہیں ہوتا کہ سڑکوں پر آکر لاٹھیاں ماری جائیں، سیاسی جماعتیں اور رہنما اپنی کارکردگی سے عوام میں جگہ بناتے ہیں،گورنرراج آئین کا حصہ ضرور ہے مگر ابھی لگا نہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چنیوٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی کے والد محترم کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ وہ سید حسن مرتضی کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اس غم میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور رہنما اپنی کارکردگی سے عوام میں جگہ بناتے ہیں۔ جب بھی ملک میں آمریت آئی، آمروں نے اپنی جماعتیں بنائیں مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا اور ڈکٹیٹروں کی وردیاں اتروائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1947ء میں مذاکرات کے ذریعے بنا تھا اور قائداعظم نے بھی ڈائیلاگ کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ یہ نہیں ہوتا کہ سڑکوں پر آکر لاٹھیاں ماری جائیں، جمہوریت کا راستہ بات چیت سے ہی نکلتا ہے۔سردار سلیم حیدر خان نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے، عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی نشست چھوڑ دیتے لیکن اس وقت اسپیکر نے اپنی رولنگ دینا شروع کر دی ،
آرٹیکل 6اس وقت لگنا چاہئے تھا جب انہوں نے غیر آئنی اقدام کئے۔انہوں نے دوٹوک موقف اپنایا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی حمایت کرتی ہے۔ گورنر راج آئین کا حصہ ضرور ہے مگر ابھی نافذ نہیں ہوا۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے بزرگ ہیں، ان کے ساتھ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔









