کراچی(رپورٹنگ آن لائن)وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہاہے کہ آئل سیکٹر کو ریگولیشن کے ذریعے مینج کیاجاتا ہے،اوگرا کہتا ہے 20 دن کا اسٹاک رکھنا ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ آج آرڈر دیا تو آج ہی قیمتیں گرگئیں، تیل آنے کے اور جہاز کی انشورنس کے اخراجات ہوتے ہیں، کہاں رکنا ہے یہ سب شامل ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں 88سے130تک پہنچ چکی ہیں، نیا پیٹرول نئی قیمت پرآرہاہے، یکم مارچ کوجو قیمت آئی وہ پچھلے15دن کی تھی، 8دن میں جو قیمتیں بڑھیں ان کا اثر آیا،
جنگ نہ ہوئی ہوتی کورونا آتا اورہم 55 روپے کم کرتے توآپ سوال نہ کرتے، ڈیزل میں ایکچوئل پرائس پچھلے8دن میں 76 روپے زیادہ آئی ہے، 76روپے فرق آرہا ہے 55روپے بڑھائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 3دن میں کروڈ آئل 26 فیصد بڑھا، ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ ہو جاتی، پی آئی اے کی نجکاری چھوٹی چیز نہیں، 24ادارے بند کر رہے ہیں، میں حکومت کی گاڑی چلاتا ہوں،پیٹرول بھی سرکار دیتی ہے، تیل کی قیمتیں بڑھیں گی تو بڑھائیں گے،کم ہوں گی تو کم کریں گے۔









