جوڈیشل الاؤنس 63

پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت ،عدالت نے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر سے تفصیلی جواب طلب کرلیا

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت سے متعلق گرفتار پولیس افسر کی ایف آئی اے کی جانب سے درج نئے مقدمے کیخلاف درخواست پرایف آئی اے کو کیس میں کسی بھی قسم کا چالان جمع کروانے سے روکتے ہوئے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر سے تفصیلی جواب طلب کرلیاہے۔

پیرکوسندھ ہائیکورٹ میں پولیس حراست میں نوجوان عرفان کی ہلاکت سے متعلق گرفتار پولیس افسر اے ایس آئی عابد شاہ کی ایف آئی اے کی جانب سے درج نئے مقدمے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل عامر منسوب قریشی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ عدالت نے ایف کو فائنل چالان جمع کروانے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔ ایف آئی اے اور پراسیکیوشن عبوری چالان جمع کروا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق ایک واقعے کے ایک سے زائد مقدمات درج نہیں کئے جاسکتے۔ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس دوسرا مقدمہ درج کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے 2018 میں بھی قرار دیا تھا کہ ایک وقوعے کی ایک ہی ایف آئی آر درج ہوگی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مزید مواد کی صورت میں بھی نیا مقدمہ نہیں بلکہ اصل مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔ یہاں جس کو دیکھو دوسری ایف آئی آر درج کررہا ہے۔ پہلے مقدمے کا تفتیشی افسر دوسرے مقدمے کا مدعی بن گیا ہے۔ عدالت نے گرفتار پولیس اہلکار کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو کیس میں کسی بھی قسم کا چالان جمع کروانے سے روکتے ہوئے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں