لاہور( ر پورٹنگ آن لائن) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے وزارت خزانہ ،خوراک ، فوڈ سکیورٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلی حکام کی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جس میںگندم اور آٹے کی قیمت ،سرکاری گندم کی ریلیز ، عوام کو معیاری آٹے کی سستے نرخوںپرفراہمی بارے مشاور ت کی گئی ،گندم کی قیمت1950روپے فی من مقرر کی گئی ہے جس سے آٹے کی فی کلو قیمت 55روپے اور20کلو تھیلے کی قیمت1100روپے تک ہو گی،پورے ملک میں گندم اورآٹے کی ایک ہی قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی تاہم تمام صوبے کابینہ کے اجلاسوں میں اسے زیر بحث لا کر حتمی فیصلہ کریں گے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت آٹے کی فی کلوقیمت56روپے ،بنگلہ دیش میں80روپے اورافغانستان میںاس سے زیادہ ہے ،پاکستان میں قیمت نہ صرف پورے خطے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کم ہے اوراسے بر قرار رکھیں گے۔
جو لوگ زیادہ غریب ہیں ان کا ڈیٹا موجود ہے انہیں آٹا گزشتہ سال کی 43روپے فی کلو قیمت پر فراہم کریں گے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس کے فالو اپ میں چاروں صوبوں کا اجلاس ہوا ہے ، یہ مشاورت کی گئی ہے کہ مرکز اور صوبے گندم اور آٹے کی ایک ہی قیمت رکھیں گے تاہم اس حوالے سے تمامصوبے کابینہ میں اسے زیر بحث لا کر حتمی فیصلے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے صوبے اگلے ہفتے سے سرکاری گندم کی ریلیز شروع کر دیں گے اور اس کی قیمت ایک ہی طے ہو گی ،نجی شعبے کو کسی صورت بھی حکومت کے طے کردہ نرخ سے زائد پر فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکومت کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، سرکاری گندم کی ریلیز کیلئے لبرل پالیسی ہو گی ۔ انہوںنے کہا کہ عوام تسلی رکھیں انہیںسستا اور معیاری آٹا فراہم کیا جائے گا اورحکومت کڑی نگرانی کو یقینی بنائے گی ۔









