لاہور(رپورٹنگ آن لائن) جماعت اسلامی پنجاب کی جانب سے پنجاب حکومت کے متنازع اور عوام دشمن بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عوامی ریفرنڈم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے،یہ عوامی ریفرنڈم 15 سے 18 جنوری تک جاری رہے گا، جس میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے شہروں اور اضلاع میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو کر حکومت کے اس کالے قانون کو مسترد کرے گی،
عوامی ریفرنڈم کے پہلے دن شہریوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں اور منتخب نمائندوں کو مکمل مالی و انتظامی اختیارات دیئے جائیں۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے لاہور سمیت مختلف شہروں کے دورے کرتے ہوئے ریفرنڈم سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی ایکٹ دراصل عوام سے ان کا بنیادی حقِ نمائندگی چھیننے کی سازش ہے۔
اس ایکٹ کے ذریعے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بیوروکریسی کے ماتحت کر کے بلدیاتی اداروں کو بے اختیار بنایا جا رہا ہے، جو جمہوری اصولوں اور آئین کی روح کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے، مگر موجودہ حکومت اسے کمزور کر کے اختیارات چند افسران تک محدود کرنا چاہتی ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے پنجاب کے باشعور عوام واضح پیغام دیں گے کہ وہ اس کالے بلدیاتی قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ ریفرنڈم میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی کارکنان، سماجی شخصیات، تاجر برادری، وکلاء اور نوجوان بھرپور شرکت کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس قانون کے خلاف متحد ہیں۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی اداروں کے انتخابات بروقت منعقد کرنے کے بجائے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، جس سے عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گلی محلوں کی سطح پر صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کی آواز کو نظرانداز کیا تو جماعت اسلامی اپنی جدوجہد کو مزید منظم اور وسیع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک صرف جماعت اسلامی کی نہیں بلکہ پنجاب کے عوام کے حقِ حکمرانی کی تحریک ہے۔ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے یہ ثابت ہو جائے گا کہ پنجاب کے عوام بیوروکریسی راج نہیں بلکہ بااختیار بلدیاتی نظام چاہتے ہیں۔









