243

پنجاب انفارمیشن کمیشن کا قانون کے برعکس،التوا کا شکاراپیلوں کو نہ نمٹانے کی وجوہات بتانے سے انکار

شہباز اکمل جندران۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن نے شہری کی درخواست پر ایک ماہ اور دو ماہ سے زائد عرصہ سے زیر التوا اپیلوں کی تفصیلات بتانے سے تحریری طورپر انکار کردیا ہے۔

پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن 6 کی کلاز 2 کے تحت انفارمیشن کمیشن پابند ہے کہ کسی بھی اپیل کو ایک ماہ یا 30 دنوں کے اندر نمٹائے یا پھر تحریری وجہ بیان کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 60 دنوں میں ڈسپوز آف کرے تاہم علم میں آیا ہے کہ پی آئی سی اپنے ہی اس قانون کو خاطر میں نہیں لاتا اور معمول میں اکثر اوقات کسی اپیل پر پہلی ہی تاریخ ایک ماہ سے زائد دنوں کی مقرر کر دی جاتی ہے اور اس کے لئے کوئی تحریری وجہ بھی بیان نہیں کی جاتی۔

شہری کی طرف سے ایسی اپیلوں کی تفصیل پوچھی گئی کہ جن میں پہلی ہی تاریخ آر ٹی آئی ایکٹ 2013 کے سیکشن 6 کی کلاز 2 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصے کے لئے مقرر کی گئی تو کمیشن نے تحریری طورپر یہ معلومات دینے سے باہر کردیا۔اور صر یہ بتایا کہ 46 اپیلیں 30 دنوں سے جبکہ 26 اپیلیں 60 دنوں سے زائد عرصہ سے التوا کا شکار رہیں۔

شہری نے آر ٹی آئی ایکٹ 2013 کے سیکشن 6 کی کلاز 2 کی خلاف ورزی کی وجوہات پوچھیں جو کہ کمیشن تاخیر کا شکار ہر اپیل پر تحریری طورپر لکھنے کا پابند ہے تو جواب میں کمیشن نے پھرتحریری طورپر انکار کردیا۔

حالانکہ آر ٹی آئی ایکٹ 2013 کے سیکشن 6 کی کلاز 2کے تحت 30 دن سے زائد کسی بھی اپیل کو التوا میں ڈالنے سے قبل کمیشن تحریری وجوہات بیان کرنے کا پابند ہے

تاہم پنجاب انفارمیشن کمیشن کا اپنے ہی محکمے کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالات کو بے ثمر قرار دیکر معلومات دینے سے انکار کرنا خود کمیشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں