شہباز اکمل جندران۔۔۔
پنجاب انفارمیشن کمیشن نے چار الگ الگ اپیلوں کو سنگل آرڈر میں سموتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ دیا ہے۔جس کے نتائج دورس ہونگے۔

پی آئی سی کے چیف محبوب قادر شاہ نے لاہور سے اپیل کنندہ شہباز اکمل جندران کی تین اور راولپنڈی سے ندیم عمر کی ایک اپیل میں 4 صفحات پر مشتمل مشترکہ فیصلہ سناتے ہوئے معلومات کی فراہمی یا عدم فراہمی کا اختیارمکمل طورپراینٹی کرپشن کو دیدیا ہے۔

اور قرار دیا ہے کہ اینٹی کرپشن حکام پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 اور دی پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 2014 کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معلومات کی فراہمی یا استثنی کا فیصلہ خود کریں۔




شہباز اکمل جندران کی پہلی اپیل میں ایںنٹی کرپشن لاہور سے سورس رپورٹ کے تحت شروع کی جانے والی انکوائریوں اور ان کے نتائج کے متعلق معلومات کی استدعا کی گئی۔دوران سماعت اپیل کنندہ کا موقف تھا کہ اینٹی کرپشن حکام اپنے ہی کسی کلرک یا ملازم کو سورس ظاہر کرتے ہوئے سرکاری محکموں کے ملازمین کے خلاف انکوائریاں شروع کرتے ہیں۔اور پھر چپکے سے شروع ہونے والی ایسی انکوائریاں باوجوہ چپکے سے ہی ختم کر دی جاتی ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔ایسے میں ہر شہری کا حق ہے کہ وہ ایںنٹی کرپشن میں شروع کی جانے والی ایسی گھوسٹ انکوائریوں کے متعلق پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت معلومات حاصل کرسکے۔
تاہم چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب محبوب قادر شاہ نے اس اپیل میں اینٹی کرپشن کے ایگزیمپشن کے دعوے کو اپنے آرڈر میں تسلیم کرلیا۔حالانکہ اپیل میں مکمل یا جزوی معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جاسکتا تھا۔

اسی طر ح دوسری اپیل میں Judicial Actionکے متعلق اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے اختیارات اور لاہور ریجن و ہیڈ کوآرٹر میں اینٹی کرپشن حکام کی طرف سے جوڈیشل ایکشن کے تحت اور جوڈیشل ایکشن کے بغیر کی جانے والی گرفتاریوں کے متعلق معلومات کی استدعا کی گئی تھی۔جسے پنجاب انفارمیشن کمیشن نے اپنے آرڈر کے تحت اینٹی کرپشن حکام کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔حالانکہ دوران سماعت اپیل کنندہ کا موقف تھا کہ کسی شخص کی اینٹی کرپشن کے مقدمات میں جوڈیشل ایکشن کے تحت یا جوڈیشل ایکشن کے بغیر گرفتاری کوئی خفیہ امر نہیں ہے۔لیکن اس کے باوجود پی آئی سی ان معلومات کے Disclosure پر آمادہ نہ ہوسکا۔

اسی طرح اپیل کنندہ نے اینٹی کرپشن سے ایسی انکوائریوں کی تفصیل طلب کی جو گزشتہ 5 برسوں سے 4 برسوں سے 3 برسوں سے 2 برسوں سے اور ایک سال سے زیر التوا ہیں لیکن یہاں بھی اپیل کنندہ کی ڈیمانڈ کو “خفیہ” اور اے سی ای کے ایگزیمپشن کے دعوے کو تسلیم کیا گیا۔

جبکہ راولپنڈی سے ندیم عمر کی اپیل میں اینٹی کرپشن کی طرف سے دائر کردہ ایف آئی آرز اور اینٹی کرپشن کی طرف سے کی جانے والی ریکوریز کو بھی پنجاب انفارمیشن کمیشن کی طرف سے “خفیہ” ہی کے خانے میں فٹ کیا گیا۔
پنجاب میں آر ٹی آئی کو پہچان دینے والے چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ کی طرف سے ایسا فیصلہ بذات خود ٹرانسپیرنسی اینڈ رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے لئے جہاں سوالیہ نشان ہے وہیں کھلی بحث کے لئے کئی سوال چھوڑے ہیں۔کہ۔۔
کیا آر ٹی آئی قوانین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پر لاگو ہوتے ہیں؟
کیا سورس رپورٹ کی شکل میں حقیقی یا گھوسٹ انکوائریاں عوام کے لئے خفیہ ہوتی ہیں؟
کیا اینٹی کرپشن کا جوڈیشل ایکشن خفیہ کارروائی میں شمار ہوتا ہے؟
کیا اینٹی کرپشن کی انکوائریاں عشروں تک چل سکتی ہیں اورالتوا کاشکار انکوائریوں کی تعداد سمیت دیگر معلومات خفیہ قرار دی جاسکتی ہیں؟
کیا اینٹی کرپشن کی طرف دائر کردہ ایف آئی آرز کو خفیہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
کیا اینٹی کرپشن کی طرف سے ملزمان سے کی جانے والی وصولیوں یا Recoveries کو خفیہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
کیا قانون، انفارمیشن کمیشن کو معلومات تک رسائی کی اپیل میں فیصلہ Respondant Public Bodyکی صوابدید پر چھوڑنے کا اختیار دیتا ہے؟









