پشاور ہائی کورٹ 179

پشاور ہائی کورٹ،دریائے کابل اورسرزریاب میں غیر قانونی تعمیرات کے کیس میں تفصیلی رپورٹ طلب

پشاور(رپورٹنگ آن لائن ) پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ یہ حکومت کا کام ہے اورحکومت کہیں اور مصروف ہے، دریائے کابل کو بحال کرنے اور سرزریاب پر مستقبل میں پلاننگ کی تفصیلی رپورٹ دیں۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں دریائے کابل اورسرزریاب میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصر رشید اور جسٹس شکیل احمد نے کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سکندر شاہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چارسدہ، ایڈیشنل سیکرٹری ایریگیشن ، اے سی ہیڈ کوارٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ دریائے کابل اور سرزریاب میں قبضہ مافیا سے زمین واگزارکرانے کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ دریائے کابل اور سرزریاب سے مکمل طور پرغیر قانونی قبضہ ختم کرا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاور ہائی کورٹ نے کہا کہ ان علاقوں میں پاورفل لوگ ہیں جنہوں نے ہٹس بنائیں ہوئے ہیں۔ متعلقہ محکمہ اس جگہ کو تحفظ فراہم کریں۔ عالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایڈمنسٹریشن کی کمزوری ہے کہ غیر قانونی قبضہ ہو جاتا ہے۔

ہم پانی اور گراونڈز کھو رہے ہیں۔ چیف جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ افسوس ناک بات ہے کہ دریاں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی عدالت نوٹس لے۔ ہم حیران ہیں کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اوراآیریگیشن محکمہ کیا کررہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے اورحکومت کہیں اور مصروف ہے۔

دریائے کابل کو بحال کرنے اور سرزریاب پر مستقبل میں پلاننگ کی تفصیلی رپورٹ دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ ان علاقوں میں دوبارہ قبضہ نہیں کیا جا سکے۔ تمام متعلقہ محکمے مل کر تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں