مشاہد حسین سید 47

پاکستان کے پیس آف بورڈ میں شمولیت سے بھارت بے چین ہے،مشاہد حسین سید

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ہمیں ایک پلیٹ فارم دیا ہے جبکہ پاکستان کے پیس آف بورڈ میں شمولیت سے بھارت بے چین ہے۔

بھارت کے یوم جمہوریہ پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹ سروس میں یوم سیاہ کے موقع پر سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اس وقت بہت تہلکہ مچا ہوا ہے، بھارت بے چین ہے کہ پاکستان نے پیس آف بورڈ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین وہ دو ریاستیں ہیں جو پاکستان کی پالیسی میں شامل ہیں، پاکستان 2026 میں اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کا بھی رکن ہے، اس کے ذریعے کشمیر کاز کو پروموٹ کیا جائے گا، آج کے بھارت میں آر ایس ایس ایک سٹیٹ ہے جو فاشزم کی جماعت ہے، ہندوستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کا نظریہ ہندوتوا ہے۔

حریت رہنما الطاف احمد وانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلی بار دنیا میں پیس میکر کے طور پر ابھرا ہے، حکومت کا فیصلہ سیاسی، عسکری اور بیوروکریسی کی مشاورت سے کیا گیا، عالمی سطح پر ملنے والے موقع کو کیش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلے کو عوام اور انٹلیکچول کلاس کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے، ذاتی ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کی سپورٹ ضروری ہے، پاکستان آج ٹیبل پر ہے مینیو میں نہیں۔

الطاف احمد وانی کا کہنا تھا کہ خطے میں سب سے بڑا اور اہم تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے، کشمیر ایشو ایک بار پھر عالمی لائم لائٹ میں آ رہا ہے، بھارت کشمیر پر بڑھتی عالمی توجہ سے پریشان نظر آ رہا ہے۔

سیمینار میں چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں