قصور(رپورٹنگ آن لائن)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق ممبر قومی اسمبلی لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے متفقہ آئین کا تحفظ وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہےـاجتماعی قومی دانش کا تقاضا ہے کہ گھمبیر ہوتے سیاسی بحرانوں کا سیاسی حل تلاش کیا جائےـاپوزیشن جماعتوں، قومی جمہوری سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ ملک و قوم کو سیاسی، آئینی، معاشی اور امنِ عامہ صورتِ حال سے متعلق بحرانوں سے نجات دِلانے کے لئے فعال کلیدی کردار ادا کرےـخاموش تماشائی بننا، ملکی حالات سے لاتعلق رہنا قومی سیاست کے لئے زہرِقاتل ہےـتمام جماعتیں اور قیادتیں ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھیںـسب کو انا، ضِد، ہٹ دھرمی اور مقبولیت کے بند گنبد سے نکل کر قومی ترجیحات کے قومی ایجنڈے پر اتفاق کرلینا چاہئے.
25 کروڑ عوام پر مسلط جبر، ظلم، کرپشن، ناانصافی اور ریاستی طاقت کے ناجائز اندھے استعمال کے مقابلہ میں چند افراد نہیں سب کو بڑی جدوجہد اور قربانی دینی ہونگیـلیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات اور ان کی صحت یابی پر دعا کیـاس موقع پر ملکی سیاسی حالات کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے کہا کہ عدالتوں کے دھڑا دھڑ فیصلے خود عدالتی نظام کو بے نقاب کررہے ہیں اور بار بار اعلان ہورہا ہے کہ عدل و انصاف دفن ہورہا ہےـعدلیہ کی آزادی کے لئے سیاسی جمہوری قیادت، وکلا بارز اور سِول سوسائٹی کو پرامن جمہوری مزاحمت کے لئے ہراول دستہ بن کر پوری قوم کو مایوسیوں سے نکال کر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا. غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہوکر آنے والی عوامی قیادت اور مینڈیٹ کو تسلیم کرنا اور بااختیار الیکشن کمیشن کے لئے سیاسی قوتوں کا اتفاق ناگزیر ہےـ
سیاسی جمہوری قوتوں کو اقتدار کی ہوس پوری کرنے کی ذلت آمیز عادت ترک کرکے عوامی مینڈیٹ تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے اور کوئی بھی اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے انجینئرڈ پلان کا اسیر نہ بنےـلیاقت بلوچ نے بااختیار بلدیاتی نظام، بااختیار عوام کے حوالہ سے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت بااختیار بلدیاتی نظام کا ماڈل دے، دیگر صوبے بھی بااختیار بلدیاتی نظام اپنانے پرمجبور ہوں گےـ









