آصف علی زرداری 44

پاکستان کے عوام، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو نئے سال کی مبارکباد،صدر مملکت آصف علی زرداری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کے عوام، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو نئے سال کے موقع پر دلی مبارکباد دیتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن، امن کے داعی اور استحکام کے ضامن کے طور پر دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے سال نو 2026ء کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور بشمول کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کےلئے تیار ہے، ہم افغانستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہم سال 2026ء اور رواں صدی کی دوسری چوتھائی میں داخل ہورہے ہیں، میں پاکستان کے عوام، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمنائوں کا پیغام دیتا ہوں۔

صدر مملکت نے کہا کہ جب ہم اپنے 79 ویں یوم آزادی کے قریب پہنچ رہے ہیں تو یہ لمحہ قومی خود احتسابی اور اجتماعی عزم کا ہونا چاہیے، ہمیں اجتماعی طور پر پاکستان کے مشترکہ مستقبل کے نگہبان ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی تجدید کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جو جنگوں اور تنازعات، پراکسی جنگوں، انتہاپسندی، اسلاموفوبیا، عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت، آبادی میں بے قابو اضافے، معاشی بے یقینی، ماحولیاتی ہنگامی صورتحال، خوراک اور پانی کے عدم تحفظ، غلط معلومات کے پھیلائو اور شدید سماجی تقسیم سے عبارت ہے، پاکستان ان چیلنجز سے محفوظ نہیں لیکن ہم بے بس بھی نہیں ہیں، اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ ہم ان مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ آج کل عالمی منظرنامہ افراط زر، سپلائی چین میں رکاوٹوں، قرضوں کے دبائو، تجارتی جنگوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مسابقت سے تشکیل پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال معاشی خودمختاری سے انکار کی بجائے نظم و ضبط، عوامی نعروں کے بجائے پیداواریت کو مہمیز دینے، بہانوں کی بجائے برآمدات اور اقرباء پروری کے بجائے جامع ترقی کا تقاضا کرتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کےلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہی بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج بن چکی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور شدید گرمی معمول بن چکے ہیں، ماحولیاتی مطابقت کو نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرنا ہوگا اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی، خواہ وہ مذہبی، نسلی، سیاسی، نظریاتی، مسلح، فرقہ وارانہ یا ڈیجیٹل ہو۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی کھل کر بات کرنا چاہتا ہوں، جمہوریت اختلاف رائے میں پنپتی ہے مگر شائستگی اور ذمہ داری کے ساتھ، سیاسی اظہار کو ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے میں معاون ہونا چاہیے، کمزور کرنے میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عوام کی بہتری کےلئے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی مقصد دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا یا دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے درپے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ وقت ماحول میں شدت اور حرارت پیدا کرنے کا نہیں بلکہ روشنی پیدا کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی وحدت کی علامت کے طور پر میں قومی مفاہمت اور مصالحت کے عمل کی قیادت کے لیے تیار ہوں تاکہ فاصلے کم کئے جائیں، اعتماد بحال ہو اور تمام جمہوری قوتوں کو آئینی راستے پر واپس لایا جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو محاذ آرائی نہیں، تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے اوائل میں پاکستان کو ایک سنگین سلامتی کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، عوام کے اتحاد اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے ہماری خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط اور انتہائی قابلِ بھروسہ ہے، اگرچہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے اور کسی بھی وجودی خطرے کا بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس امر پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اس مسئلہ کو تمام ممکنہ ذرائع سے اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اس صدی کی دوسری چوتھائی کے آغاز پر ہم یوکرین-روس جنگ سمیت تمام عالمی تنازعات کے خاتمے کی امید رکھتے ہیں۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کے اس حق کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ نیا سال غصے کی بجائے تحمل، تقسیم کی بجائے اتحاد اور مایوسی کی بجائے امید کی تجدید کا سال ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں