عطا اللہ تارڑ 9

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کا داعش خراسان کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ مسترد کردیا

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزارت اطلاعات ونشریات نے امریکا کے سابق خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے اس دعوے کی تردید کر دی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ داعش خراسان (آئی ایس آئی ایسـکے) کے ایک کمانڈر کو پنجاب میں ہلاک کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کی رات خلیل زاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے لکھا پاکستان سے خوشخبری، داعش خراسان کے سینئر کمانڈر برہان المعروف زید کو پنجاب کے شہر اختر آباد کے علاقے پٹاک میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔اس پوسٹ کے جواب میں وزارت اطلاعات و نشریات کے سرکاری فیکٹ چیکنگ اکاؤنٹ نے کہا کہ مذکورہ واقعہ اختر آباد میں نہیں بلکہ 2 مارچ کو ضلع قصور کے علاقے حبیب آباد میں پیش آیا تھا۔

وزارت نے کہا کہ ہلاک ہونے والا شخص برہان ڈکیتی/چوری کی واردات یا ذاتی دشمنی کی وجہ سے قتل ہوا تھا، یہ کوئی کاؤنٹر ٹیرر آپریشن نہیں تھا جب کہ اس واقعے کی ایف آئی آر 6 مارچ کو تھانہ صدر پتوکی میں درج کی گئی تھی۔بیان میں کہا گیا کہ برہان اپنے سسر شاہ محمد کے ساتھ حبیب آباد کی فروٹ مارکیٹ کے قریب رہائش پذیر تھا۔وزارت اطلاعات کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ قابلِ اعتماد سیکیورٹی جائزوں کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داعش خراسان کے عناصر کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ برہان کے داعش خراسان سے تعلق یا اس کے کمانڈر ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں، زلمے خلیل زاد نے ذاتی دشمنی پر مبنی قتل کو دہشت گردی سے جوڑ کر پنجاب میں داعش خراسان کی سرگرمیوں کا غلط تاثر پیدا کیا۔آخر میں کہا گیا کہ یہ کیس مکمل طور پر ایک مجرمانہ معاملہ ہے اور اس کا شدت پسندی یا منظم دہشت گرد گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں