شہبازاکمل جندران۔۔
آپ نالائق ہیں یا باربار امتحان میں فیل ہوتے ہیں تو ڈر کس بات کا، ڈاکٹر بنیں، چاہئے سو سال لگ جائیں۔آپ کے امتحان میں Appear ہونے کے Chances کبھی ختم نہیں ہونگے۔
معلوم ہوا ہے کہ پی ایم ڈی سی قانون میں سقم کے باعث ملک میں MBBS ڈاکٹر بننے کا امتحان مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر بننے کے لئے پانچ سالہ MBBS پروگرام کے پہلے دوسال کے بعد تیسرے، چوتھے اور پانچویں سال میں امیدوار چاہے ایک سو مرتبہ یا اس سے بھی لمبے عرصے تک باربار فیل ہو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔اسے سالانہ اور سپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے سے کوئی نہیں روک سکتا کیو نکہ اسے ہر بار امتحان میں بیٹھنے کی اجازت پی ایم ڈی سی کا قانون دیتا ہے۔
حالانکہ دیگر کسی بھی رسمی یا غیر رسمی امتحان میں امیدوار کو ایسی سہولت نہیں دی گئی۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے فراہم کردہ مصدقہ ریکارڈ کے مطابق اس وقت صوبےمیں 35 طلبہ ایسے ہیں جو پانچ برسوں کی بجائے گزشتہ کئی برسوں سے “ڈاکٹری” پاس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کامیاب نہی ہوپارہے۔
ان میں LM&DC لاہور کے 7 طلبہ، نشتر میڈیکل کالج ملتان کے 6 طلبہ، پنجاب میڈیکل کالج فیل آباد کے 4 طلبہ، قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے 3 طلبہ، علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور(منسلک جناح ہسپتال) کے بھی 3 طلبہ، ایم ایم اینڈ ڈی سی ملتان کے 2، طلبہ جبکہ شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور، راولپنڈی میڈیکل کالج راولپنڈی، یونیورسٹی میڈکل اینڈ ڈینٹل کالج فیصل آباد، سنٹرل پارک میڈیکل کالج لاہور، سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لاہور( منسلک سروسز ہسپتال لاہور)،سیمبایچ لاہور میڈیکل کالج لاہور، شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان، کانٹینل میڈیکل کالج لاہور، آمنہ عنایت میڈیکل کالج شیخوپورہ اور FMH کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری لاہور کا ایک ایک طالبعلم عرصہ دراز سے ڈاکٹر بننے کی کوشش میں ہے۔

پانچ برس سے کہیں زیادہ وقت میں ڈاکٹر بننے کے حوالے سے اس سے چند ہفتے قبل 41 برسوں میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرکے ڈاکٹر بننے والے محمد بوٹا MBBS میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔







