اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان ریلویز تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ اگلے ہفتے پیش کرے،پاکستان ریلوے سے متعلق ترقیاتی کاموں کے لیے حکومتی فنڈز کی دستیابی کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا جو افسوسناک ہے، اگلے سال کے پی ایس ڈی پی میں ریلویز کے ترقیاتی منصوبوں کو متناسب بجٹ دیا جائیگا،ریلوے کے ڈھانچے کی منافع بخش کمرشل استعمال کے لیے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے امکانات کا بھرپور جائزہ لیا جائے۔
جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات اور ترقیاتی کاموں میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے ریلویز کی ملکی مجموعی معاشی ترقی، علاقائی صنعت و تجارت میں تعاون اور عوامی سہولت اور کمرشل استعمال کیلئے معیاری کارکردگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔وزیراعظم نے دستیاب ذرائع اور معاشی مسائل کے باوجود بہترین کارکردگی پر وزارت ریلوے کی تمام ٹیم کو شاباش دی۔ وزیراعظم نے وزارت ریلوے کے وسائل کے کمرشل استعمال کے لیے جامع حکمت عملی جلد از جلد مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دی۔ اجلاس میں شریک ہونے والے نجی شعبے کے ماہرین نے ریلویز کی کارکردگی کو مزید موثر کرنے اور اس کے کمرشل استعمال کے تناظر میں مختلف سفارشات پیش پیش کی۔
وزیراعظم نے اجلاس میں شریک نجی شعبے کے ماہرین سے قابل قدر سفارشات پیش کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ معیشت کی مجموعی ترقی، صنعت و تجارت اور دیگر شعبہ جات کی بہتری میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ریلویز قلیل وسائل کے باوجود نہایت تندہی اور محنت سے مثر کارکردگی دکھا رہے ہیں جس کے لیے وفاقی وزیر ریلویز اور ان کی ٹیم لائق تحسین ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ریلویز میں ادارہ جاتی اور انتظامی کارکردگی کو مزید موثر کرنے کے لیے انقلابی اقدامات دہائیوں سے ناگزیر تھے۔
انہوںنے کہاکہ پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات اور اسکو مزید منافع بخش ادارہ بنانے سے، یہ ادارہ ملکی صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان ریلویز تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ اگلے ہفتے پیش کرے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان ریلویز کی معاشی ترقی اور علاقائی تعاون میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے انقلابی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے اطمینان بخش نتائج سامنے آرہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان ریلوے سے متعلق ترقیاتی کاموں کے لیے حکومتی فنڈز کی دستیابی کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا جو افسوسناک ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ اگلے سال کے پی ایس ڈی پی میں ریلویز کے ترقیاتی منصوبوں کو متناسب بجٹ دیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان ریلویز کو بین الاقوامی سطح پر عالمی معیار کا کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں معیاری ریلوے نظام معاشی ترقی اور ملکی آمدنی بڑھانے میں قابل قدر کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کے ڈھانچے کی منافع بخش کمرشل استعمال کے لیے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے امکانات کا بھرپور جائزہ لیا جائے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ریلویز کا معیاری نظام نہ صرف اندرون ملک بلکہ علاقائی صنعت و تجارت اور تعاون میں بھی کلیدی کردار رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ریلویز کے منظم نظم و نسق اور منافع بخش کمرشل سطح پر استعمال کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع اور موثر حکمت عملی جلد موثر مرتب کی جائے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ،وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ)سرفراز احمد ، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران کے علاوہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین زید بشیر، پیر سعد احسان الدین اور دیگر نے شرکت کی۔









