احسن اقبال

پاکستان تحریک انصاف کے حامی اپنے بانی کی واضح کرپشن کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، احسن اقبال

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ نہایت افسوسناک اور شرمناک امر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے حامی اپنے بانی کی واضح کرپشن کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بانی پی ٹی آئی نے اپنی پوری سیاسی مہم کو “کرپشن کارڈ” کے گرد بنایا اور شفافیت اور احتساب کے وعدوں پر لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا تاہم پی ٹی آئی کی دوغلاپن اور منافقت کھل کر سامنے آ گئی ہے جب وہ اپنے رہنما کے 190 ملین پاونڈز (تقریباً 64 ارب روپے)کے سکینڈل پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ عوامی اعتماد کی اس بڑی خلاف ورزی کا سامنا کرنے کے بجائے وہ مذہب یا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا سہارا لے کر تنقید سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اتوار کو اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حقائق واضح اور ناقابل تردید ہیں، جن کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے)نے 190 ملین پائونڈز پاکستان کو واپس کیے جو قومی خزانے میں عوامی فائدے کے لیے جمع ہونے تھے۔اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے بانی پی ٹی آئی نے یہ فنڈز اپنے اتحادی مشہور پراپرٹی ٹائیکون کو فائدہ پہنچانے کے لیے منتقل کیے۔ یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کی گئی جو جرمانے کی ادائیگی کے لیے بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں بانی پی ٹی آئی ذاتی فوائد حاصل کیے، چاہے ان فوائد کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تاہم ریاستی فنڈز کو ذاتی مقاصد کے لیے منتقل کرنا ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 جولائی 2022 کو فنانشل ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس میں بھی بانی پی ٹی آئی کی خیراتی فنڈز کو اپنی سیاسی مہمات کے لیے استعمال کرنے کی کرپشن کو بے نقاب کیا گیا لیکن آج تک بانی پی ٹی آئی نے اخبار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جو ان کی بے گناہی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ یہ سکینڈل صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں ہے بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ ایک سنگین دھوکہ بھی ہے، جو رہنما خود کو کرپشن کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا تھا وہ190 ملین پائونڈز کی میگا کرپشن میں ملوث پایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کی منافقت کی علامت ہے جو اس طرح کی حرکتوں کا دفاع کرتے ہیں اور ان اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ صرف قیادت کی ناکامی نہیں بلکہ اندھی عقیدت، شخصیت پرستی اور بے قابو طاقت کے خطرات کا واضح سبق ہے۔