اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے،
15 ماہ قبل جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک کے اندر معاشی بدحالی تھی، نواز شریف دور میں آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہو چکا تھا تاہم سابق حکومت نے معیشت کو اتنا بدحال کر دیا تھا کہ اسے واپس آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور پھر انہوں نے اپنے ہی دستخط کردہ آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی اور اسے معطل کر دیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیر خزانہ کی کوششوں سے آئی ایم ایف پروگرام بحال ہوا، ملکی معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے، پاکستان قدیم تہذیبوں کا گہوارہ ہے جسے محفوظ بنانے کےلئے سکرین ٹورازم کی ضرورت ہے،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز میں سینسر سینما ہال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سہیل علی خان اور وزارت اطلاعات کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری دنیا میں فلم سینسر کا لفظ استعمال نہیں ہوتا بلکہ فلم سرٹیفیکیشن کا نام لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 1970ءکے بعد فلم انڈسٹری پر کافی قدغنیں لگیں جس کے اثرات آج تک جاری ہیں، ان اثرات کو ختم اور پاکستان کے تشخص کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے کے لئے سکرین ٹورازم پر کام کر رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ سکرین ٹورازم کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنے بیانیہ کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے موجود ہونے چاہئیں جو سیاحتی موضوعات پر دستاویزی فلمیں بنانے والوں کو سہولت دے سکیں، اس مقصد کے لئے ہم نے پاکستان ٹیلی ویژن میں کام شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے دور میں پاکستان کلچر پالیسی کا آغاز کیا تھا جس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ فلم انڈسٹری کو سبسڈی دی جا رہی ہے، ہماری ثقافت اور قومی ورثہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان قدیم تہذیبوں کا گہوارہ ہے جسے محفوظ بنانے کےلئے سکرین ٹورازم کی ضرورت ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ فلم سرٹیفیکیٹ بورڈ اور پی ٹی وی فلم ڈویژن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے فلم سینسر بورڈ میں سینسر سینما کے افتتاح پر وزارت اطلاعات کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فلم سینسر کے لئے پرائیویٹ سینما کی خدمات لینا پڑتی تھیں، اب یہ سہولت فلم سینسر بورڈ میں دستیاب ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی فلم ڈویژن بھی قائم کیا گیا ہے، وہاں بھی ایک چھوٹا سینما ہے جس کی تزئین کی جا رہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کے احاطوں میں سینما گھر قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو سستی تفریحی سہولیات میسر ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 15 ماہ قبل جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک کے اندر معاشی بدحالی تھی، 2018ءمیں ہم ترقی کرتا ہوا پاکستان چھوڑ کر گئے تھے،
معیشت 6.1 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی، نواز شریف دور میں آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہو چکا تھا تاہم پچھلے چار سالوں میں مہنگائی عروج پر پہنچی، سابق حکومت نے معیشت کو اتنا بدحال کیا کہ اسے واپس آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور پھر انہوں نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر کے اپنے ہی دستخط کردہ آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی اور اسے معطل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی محنت سے آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے دوست ممالک کو ناراض کیا ، تاہم وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقتدار میں آ کر دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران بھی بحالی کی سرگرمیاں شروع کیں، معیشت کو بہتر بنانے کے لئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام عمل میں لایا جو سرمایہ کاری کے لئے کلیدی کردار ادا کرے گی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، ملکی معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافیوں اور فنکاروں کی ہیلتھ انشورنس کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ انہیں باوقار طریقے سے صحت کی سہولیات تک رسائی دی جاسکے، یہ وہ اقدام ہے جس کی آج تک کسی نے ذمہ داری نہیں لی اور معاشرے کا وہ حصہ جسے کسی نے ترجیح نہیں بنایا، صحافیوں کو اب یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکریٹری اطلاعات اور ایم ڈی پی ٹی وی سہیل علی خان کی قیادت میں ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کو انسٹیٹیوشنلائز کیا، ریڈیو میں جدید ٹیکنالوجی نصب کی جا رہی ہے جس سے پوری دنیا میں اس کی نشریات سنی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیم ویو ٹیکنالوجی کے ساتھ ریڈیو پاکستان کی نشریات میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ریڈیو پاکستان کے ملازمین کے لئے ایک بزنس پلان دیا تاکہ اس کے مالی معاملات بہتر ہو، ریڈیو کا 4 ارب روپے کا ریڈیو منڈال ٹیکنالوجی کے ذریعے پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے جس سے 52 ممالک میں ریڈیو کی آواز سنی جائے گی اور یہ ٹیکنالوجی پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے بزنس پلان کے ذریعے پورے ریڈیو پاکستان کی فنانشل فزیبلٹی اور استحکام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزارت اطلاعات میری ذمہ داری میں شامل ہے اس کے اداروں کو ہم مستحکم کریں گے.