کراچی (رپورٹنگ آن لائن)رواں مالی سال 25-2024 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ کمایا جو ملک کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کی مضبوطی اور پاکستان کی ڈیجیٹل ہنرمند افرادی قوت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور طلب کی عکاس ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فری لانسرز نے کمپیوٹر اور انفارمیشن کے ذریعے جولائی تا دسمبر 2025 تک 55 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امدنی میں اضافہ کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 58 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فری لانسنگ آمدن میں یہ اضافہ پاکستانی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، مواد کی تخلیق (کنٹینٹ کریشن)اور ای کامرس جیسے شعبوں میں پاکستان عالمی سطح پر ایک مقبول اور مسابقتی مارکیٹ کا اظہار ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت فری لانسرز کی سہولت اور معیشت میں ان کے تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ جس میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سستے انٹرنیٹ ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو سہل بنانا اور مارکیٹ کی ضرورت ہے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیاری شامل ہے۔ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ فری لانسرز نے بہت سے برآمدہ شعبوں کو پیچھے چھوڑے ہوئے 55 کروڑ ڈالر چھ ماہ میں کمائے ہیں۔ راوں مالی سال کے اختتام یہ یہ آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرجانے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2018 کے بعد ایسوسی ایشن کی سفارشات کی روشنی میں حکومت اور اسٹیٹ بینک نے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں جس میں فری لانسرز کی آمدن قانونی طریقے ملک میں لانے، غیر ملکی کرنسی کے اکانٹس کھولنے اور آمدنی کا 50 فیصد ڈالر بینک میں رکھنے کی سہولیات دی ہیں۔ملک میں رجسٹرڈ فری لانسرز صرف 0.25 فیصد کا معمولی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔









