پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی 201

پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا آئندہ کوئی کیس قومی احتساب بیورو (نیب)کو نہ بھیجنے پر اتفاق

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے آئندہ کوئی کیس قومی احتساب بیورو (نیب)کو نہ بھیجنے پر اتفاق کرلیا جبکہ نیب کو اب تک بھیجے گئے کیسز پر ہونے والی پیشرفت کی رپورٹ طلب کرلی،کمیٹی نے این ایل سی سے متعلق کچھ آڈٹ اعتراضات پر دوبارہ محکمانہ اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کردی،

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے ریمارکس دیئے کہ نیب کو کیسز ریفرنہیں کرنےچاہئیں،461 ارب روپے کی ریکوری تو ہم نے کی ہے، پی اے سی کے سامنے نیب بھی جوابدہ ہے۔جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے دوران پی اے سی کی جانب سے نیب کو بھیجے گئے کیسز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ نیب کو کیسز ریفر نہیں کرنے چاہئیں، انہوں نے نیب حکام کو ہدایت کی کہ آج تک جو کیسز آپ کو بھیجے ہیں کسی دن ان پر پیشرفت کی رپورٹ لائیں، جو نیب والے ریکوری کی بات کرتے ہیں،461 بلین کی ریکوری تو ہم نے کی ہے،اس دن بھی میں نے کہا تھا کہ نیب کو کیس ہم نہ بھیجیں اپنے طور پر انکوائری کرائیں،رکن کمیٹی خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے زیادہ معتبر ادارہ ہے،

رکن کمیٹی مشاہد حسین سید کہا کہ پی اے سی سپریم باڈی ہے ہم خود ایکشن لے سکتے ہیں ہم اپنے لیول پر فیصلہ کریں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی اے سی کے سامنے نیب بھی جوابدہ ہے، رکن کمیٹی سردار سردار ایاز صادق نے کہا کہ آج تک پتہ نہیں چلا کہ نیب نے کتنے سیاستدانوں اور کتنے بزنس مینوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اور ریکوری کتنی ہے؟ کمیٹی اجلاس کے دوران وزارت منصوبہ بندی وترقی کے 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) سے متعلق آڈٹ اعتراضات پر بریفنگ دی ، کمیٹی نے کچھ آڈٹ اعتراضات پر دوبارہ محکمانہ اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کر دی،آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ ڈی اے سی کی تو بات ہی نہیں مانتے،چیئرمین کمیٹی نے این ایل سی حکام کو ڈی اے سی میں آڈٹ حکام سے پورا تعاون کرنے کی ہدایت کر دی، وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے ایڈیشنل سیکرٹری انچارج نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نے درخواست کی ہے کہ اس ادارے کو ہم سے لےلیاجائے ہم اس کونہیں سنبھال سکتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں