ملک محمد احمد خان 30

پارلیمان اس لیے اہم ہے کیونکہ جمہوریت کا دارومدار انہی اداروں پر ہے،ملک احمد خان

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پارلیمان اس لیے اہم ہے کیونکہ جمہوریت کا دارومدار انہی اداروں پر ہے اور عوام کا اعتماد پارلیمانی طرزِ عمل سے جڑا ہوا ہے۔

بدھ کو 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری مشترکہ ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ اگر ایوانوں میں تشدد، شور شرابہ، غیر سنجیدہ بحث اور عوامی مسائل کے حل کی کمی ہو تو جمہوریت پر اعتماد مجروح ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔پارلیمان کو مصالحت، مکالمے اور تنازعات کے حل کا مرکز ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر اس کردار میں کمزوریاں موجود ہیں، جو تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کی عزت و وقار کا اصل مظہر پارلیمان ہیں، مگر آج بھی ان اداروں میں موثر کارکردگی اور نتیجہ خیز نگرانی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔انہوں نیمغربی ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نگرانی، شمولیت اور شفافیت سے عوام کو جمہوریت کے ثمرات مل سکتے ہیں، اور ہمیں نیا پہیہ ایجاد کرنے کے بجائے انہی تجربات سے سیکھنا چاہیے۔

ملک احمد خان نے مصنوعی ذہانت (AI) کو ایک بڑا چیلنج اور ممکنہ موقع قرار دیا؛ طبی، صنعتی اور تعلیمی شعبوں میں فوائد تسلیم کیے، مگر سوال اٹھایا کہ کیا قانون ساز ادارے AI کو مثر طور پر ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار ہیں؟انہوں نے خبردار کیا کہ AI کو مکمل طور پر نجی کمپنیوں یا جنگی مقاصد کے لیے چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے قانون سازی اور نگرانی ناگزیر ہے۔سندھ اسمبلی کے خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ تقلید مثالیں ہیں جن سے دیگر اسمبلیاں سیکھ سکتی ہیں۔انہوںنے سری لنکا، مالدیپ اور برطانیہ کے نمائندوں کے تجربات کو مفید قرار دیتے ہوئے علاقائی مکالمے اور کانفرنسز کے تسلسل پر زور دیا۔اختتام پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کامن ویلتھ ممالک کے درمیان تجربات کا تبادلہ، مسلسل مکالمہ اور پارلیمانی اصلاحات جمہوریت کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں