اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)پارلیمانی کمیٹی برائے جبری تبدیلی مذہب کے اجلاس میں وزیر مملکت علی محمدخ ان اور سینیٹر مشتاق احمد کے درمیان سخت گرما گرمی ہوگئی ،پارلیمانی کمیٹی برائے جبری تبدیلی مذہب کے اجلاس کی صدارت چیئر مین کمیٹی لیاقت ترکئی نے کی ۔کمیٹی اجلاس میں وزیر مملکت علی محمد خان اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے درمیان گرما گرمی ہوئی ۔ علی محمد خان نے کہاکہ حکومت اس بل کو مسترد کرتی ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ حکومت غلط بیانی کرتی ہے ۔ یہ پرائیویٹ بل ہے ،میرے پاس جو بل سکرٹری کمیٹی نے جو بھیجا اس میں ۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ وزارت انسانی حقوق واضح طور پرلکھا ہے۔ شیریں مزاری نے کہاکہ یہ بل ابھی تک کسی ایوان میں پیش ہی ہوا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ آپ نے اسلام، اقلیتوں اور ہم سب کو دنیا کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے ،مسئلہ زبردستی مسلمان کرنا نہیں ان کے لیے مسئلہ اسلام قبول کرنا ہے۔
انہوںنے کہاکہ یہ بل آئین کے آرٹیکل اے 2، 20 اور 32 کے خلاف ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپ یہ بل مسترد کر کے دوسرا متفقہ بل تیار کرتے۔ انہوںنے کہاکہ 2008 سے 2020 تک 6 ہزار 51 لوگ مسلمان ہوئے۔ اجلاس کے دور ان پارلیمانی سیکرٹری لال مالھی اور علی محمد خان کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی ،حکومتی وزراء اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ لال مالہی نے کہاکہ آپ نے ہمیں یہاں تری دینے کیلئے بلایا ہے، پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق لال مالھی اپنی نشست سے اٹھ کر بولتے رہے۔ علی محمد خان نے کہاکہ آپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔
لال مالہی نے کہاکہ میرے وزیر اعظم سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں،اسلامی نظریاتی کونسل بھی میاں مٹھو کو بلاکر اس سے رائے لیتی ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے اقلیتی ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کیا ،سینیٹر دنیش کمار اور کھیئل داس نے اجلاس سے واک آؤٹ کی دھمکی دیدی ۔









