لاس اینجلس(رپورٹنگ آن لائن ) مائیکل بی جورڈن کی ویمپائر تھرلر فلم سنرز نے آسکر ایوارڈز کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ایک ہی سال میں سب سے زیادہ 16 نامزدگیاں حاصل کر لیں۔
نسلی جدائی کے دور کی یہ دل دہلا دینے والی فلم” سنرز” آسکر نامزدگیوں میں طوفان کی طرح آئی اور سب کو حیران کردیا، رائن کوگلر کی ہدایت کاری میں بنی یہ فلم اب 15 مارچ کو ہونے والے آسکرز کی تقریب میں بہترین فلم کیلیے سب سے بڑی دعویدار بن چکی ہے۔اس فلم کا مقابلہ ون بیٹل آفٹر اینادر، فرینکن اسٹائن، ہیمنیٹ، مارٹی سپریم جیسی فلموں سے ہوگا، لیکن 16 نامزدگیوں کے ساتھ سنرز نے سب کو فی الحال پچھاڑ دیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ایک سال میں سب سے زیادہ 14 نامزدگیوں کا ریکارڈ آل اباٹ ایو، ٹائی ٹینک اور لا لا لینڈ کے پاس تھا،
اب سنرز نے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیاـبہترین فلم کے زمرے میں بوگونیا، ایف ون، دی سیکریٹ ایجنٹ، سینٹیمنٹل ویلیو اور ٹرین ڈریمز بھی شامل ہیں لیکن اصل مقابلہ تو سنرز کے گرد گھوم رہا ہے۔مائیکل بی جورڈن نے 1930 کی دہائی کے مسیسیپی میں جڑواں بھائیوں کے دوہرے کردار ادا کیے ہیں جو ایک جوک جوائنٹ کھولتے ہیں، اس شاندار پرفارمنس پر انھیں بہترین اداکار کی نامزدگی ملی ہے۔فلم کو مزید بہترین ہدایت کار (رائن کوگلر)، بہترین معاون اداکار (ڈیلرائے لنڈو)، بہترین معاون اداکارہ (وونمی موساکو)، سنیماٹوگرافی، کاسٹیوم ڈیزائن، اورجنل اسکرپٹ اور ویژول ایفیکٹس سمیت کئی کیٹیگریز میں نوازا گیا ہے۔
بہترین اداکار کی کیٹیگری میں جورڈن کا مقابلہ لیونارڈو ڈی کیپریو (13 نامزدگیوں والی ون بیٹل آفٹر اینادر) اور ٹموتھی شالامے (مارٹی سپریم) سے ہے اور یہ مقابلہ دیکھنے لائق ہوگا، بہترین اداکارہ میں جیسی بکلے(ہیمنیٹ)اور کیٹ ہڈسن (سانگ سنگ بلیو) نامزد ہوئی ہیں۔سنہری آسکر مجسمہ کون جیتے گا، یہ فیصلہ اکیڈمی کے تقریبا دس ہزار اراکین کریں گے، والٹ ڈزنی کی اے بی سی یہ تقریب براہ راست دکھائے گی اور کامیڈین کونن اوبرائن مسلسل دوسرے سال تقریب کی میزبانی کریں گے۔علاوہ ازیں اسٹوڈیوز کی دوڑ میں وارنر بروس ڈسکوری نے 30 نامزدگیوں کے ساتھ سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، نیٹ فلکس کو اب تک بہترین فلم کا آسکر نہیں ملا لیکن اس بار فرینکن اسٹائن کی نو نامزدگیوں کے ساتھ ان کی بھی توقعات بڑھ گئی ہیں۔









