شرجیل انعام میمن 34

وزیر اعلی سندھ کی سربراہی میں ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے،شرجیل میمن

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کی سربراہی میں ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے، کابینہ نے سندھ ایگریکلچر ویمن ورکرز رولز کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت خواتین زرعی محنت کشوں کو مساوی اجرت اور زچگی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراسانی اور امتیاز سے تحفظ دینے کے لیے بھی قانونی اقدامات شامل کیے گئے ہیں اور پاکستان میں اس نوعیت کا اقدام پہلی بار کیا جا رہا ہے۔ کابینہ نے بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز کارڈ جاری کرنے کی بھی منظوری دی ہے جبکہ خواتین محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے 50 کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سطح پر اس سے پہلے خواتین کے لیے کام نہیں کیا گیا۔کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے ملیر میں نرسنگ اسکول کے قیام کی منظوری بھی دی ہے جس کے لیے تعلقہ ابراہیم حیدری میں چار ایکڑ سرکاری زمین مختص کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ حسن سلمان ہسپتال کے لیے فنڈز کی بھی منظوری دی گئی ہے اور اس منصوبے میں جتنی سرمایہ کاری نجی شعبہ کرے گا اتنی ہی رقم حکومت سندھ بھی فراہم کرے گی، جس سے کراچی کے عوام کو اہم طبی سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پہلی بار طلبہ کی حاضری کی مانیٹرنگ کے لیے موبائل ایپ اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی منظوری دی گئی ہے جس کے ذریعے طلبہ کی حاضری اور داخلے کا ریکارڈ رکھا جائے گا اور ڈراپ آٹ کیسز کی شرح کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ نظام ایک سال کے اندر سندھ کے تمام اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا اور اسے محکمہ تعلیم سندھ کا ایک بڑا انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی قلت سے بچنے کے لیے موجود گندم تاجروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے دیے گئے کفایت شعاری پروگرام کی بھی توثیق کی گئی ہے اور حکومت سندھ نے بھی کفایت شعاری مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی جا رہی ہے جس سے تقریبا 960 ملین روپے کی بچت متوقع ہے، تاہم ایمبولینس، پولیس اور دیگر ہنگامی خدمات کی گاڑیوں کو اس سے استثنا حاصل ہوگا۔ سرکاری محکموں میں ساٹھ فیصد گاڑیاں دو ماہ کے لیے بند رکھی جائیں گی جبکہ چالیس فیصد گاڑیاں استعمال ہوں گی۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزرا نے رضاکارانہ طور پر تین ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ارکان اسمبلی کے حوالے سے فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی۔

مالی سال کی آخری سہ ماہی میں غیر ضروری سرکاری اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی، غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر سرکاری افسران اکنامی کلاس میں سفر کریں گے، کسی کو بزنس کلاس میں سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر سندھ میں تعلیمی اداروں کو 16 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم کوئی امتحان ملتوی نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ جمعے کے روز سرکاری ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے جبکہ باقی چار دن دفاتر میں کام جاری رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے سرکاری دفاتر میں دو ماہ کے لیے ہر قسم کی ریفریشمنٹ بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ رمضان المبارک کے پیش نظر آئندہ دو ماہ تک سرکاری سطح پر چائے، ناشتے یا کسی بھی قسم کی ریفریشمنٹ فراہم نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی ملازم ذاتی طور پر کچھ استعمال کرنا چاہے تو وہ اپنی ذمہ داری پر کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت جن معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ان سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حسن سلیمان ہسپتال کے منصوبے میں نصف رقم حکومت سندھ جبکہ نصف رقم نجی مالکان فراہم کر رہے ہیں اور حکومت کا مقصد عوام کو اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کام کرنے والوں کی نیک نیتی کو سراہنا چاہیے اور اسے شکوک و شبہات کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ یہ عوامی فلاح کا ایک اہم منصوبہ ہے جس سے عام اور غریب آدمی بھی فائدہ اٹھا سکے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ نے سابق نگراں وزرا اور دیگر شخصیات سے سیکیورٹی واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔

پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہیں۔ کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزیراعلی سندھ کا جہاز بھی ان دنوں گرانڈ رہے گا جبکہ سرکاری دعوتوں اور نجی ہوٹلز میں سرکاری تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کابینہ ارکان نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر افطار پارٹیوں میں شرکت نہیں کریں گے تاکہ کفایت شعاری کا پیغام دیا جا سکے۔شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ گندم کی خرد برد میں ملوث 25 افراد کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے تمام کفایت شعاری اقدامات کا مقصد قومی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانا ہے اور ان اقدامات سے ہونے والی بچت کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو ماہ کے دوران سرکاری محکموں میں اخراجات کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ غیر ضروری سرگرمیوں کو محدود کر کے زیادہ سے زیادہ بچت کی جا سکے اور پٹرول و ڈیزل کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات عام عوام پر کم سے کم پڑیں۔ چیف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مثر رابطہ رکھا جائے جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے بھی مسلسل مشاورت جاری ہے تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے اور حکومت نے قیمتوں میں اضافہ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت کیا ہے کیونکہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے اور منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں