رانا ثناء اللہ 13

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کشیدگی ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں،رانا ثنا اللہ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کشیدگی ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں ، پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے، ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے؟۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی اب بھی کوششیں جاری ہیں کہ فریقین کے درمیان بات چیت ہو،پاکستان نے ایران پرحملے کی مذمت کی ہے،

وزیراعظم نے دوسرے اسلامی ممالک سے بھی رابطہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بتایا جا رہا ہے آیت اللہ علی خامنہ ای کو کافی عرصے سے مانیٹر کیا جا رہا تھا،اس میٹنگ کا انتظار کیا جا رہا تھا جس میں ایران کی آدھی قیادت موجود تھی، ہمیں کسی بلاک میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اپنے مفاد کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ صدرٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں مثبت کردار ادا کیاجو پاکستان کے حق میں تھا،ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے، پاکستان ڈکلیئرڈ نیوکلیئر ریاست ہے،پاکستان کی طرف آنے کی کسی کی جرات نہیں،پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں،افغانستان کی حیثیت ہی نہیں کہ ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں، افغانستان میں بھارتی اسلحہ آتا ہے،بی ایل اے،کالعدم ٹی ٹی پی بھی موجودہے،ہمارا مقصد افغانستان سے جنگ اور قبضہ کرنا نہیں۔

ہمارا مقصد ہے کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث نہ ہو،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دہشتگردی کا کوئی مرکز نہ ہو،افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز کو ختم کیا جائے گا،پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ تعاون کیا مگر وہاں سے کبھی ٹھنڈی ہوا نہیں آئی، ترکیہ اور قطر نے افغانستان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی کووزیراعظم ہائوس میں بریفنگ میں جانا چاہیے تھا، ملک کیلئے تحریک انصاف کو بریفنگ میں شرکت کرنی چاہیے تھی،جوبھی کمی تھی پی ٹی آئی بتاتی اس کو دیکھا جاتا،ممکن تھاکہ ڈی جی آئی ایس آئی آکر بریفنگ دیتے،پی ٹی آئی کو جو بھی کمی محسوس ہوتی اس کو پورا کیا جا سکتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں