لاہور(رپورٹنگ آن لائن )وزارت پیٹرولیم نے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل سے چین سے ڈیوٹی فری پیٹرول کی درآمد کا دو سال کا ڈیٹا مانگ لیا ۔آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کو جنوری 2020 سے جنوری 2022 تک کا ڈیٹا 20 جنوری تک جمع کروانے کا کہا گیا ہے ۔خط میں کہا گیا کہ کمپنیوں نے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت چین سے ڈیوٹی فری پیٹرول درآمد کیا، عام طور پر کمپنیاں مشرق وسطی سے 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی پر پیٹرول درآمد کرتی ہیں۔
کمپنیوں نے پیٹرول کس پورٹ سے منگوایا، کس پر اتارا اور تیل کی مقدار کتنی ہے۔انڈسٹری ذرائع کے مطابق 2021 میں چین سے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت 2020 کی نسبت 16 فیصد زیادہ پیٹرول درآمد کیا گیا اور بغیر ڈیوٹی پیٹرول کی درآمد سے آئل کمپنیز کے مارجن میں اضافہ ہوا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی خوردہ قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔









