ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن 37

ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن چین کی تجویز پر قائم ہوئی ہے ، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن کا قیام بیجنگ میں ہوا ۔بدھ کے روز چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ یہ دنیا میں پہلی پروفیشنل بین الاقوامی تنظیم ہے جو ڈیٹا کی ترقی اور گورننس کے عملی اقدامات کے فروغ کے لیے بنائی گئی ہے، اور فی الحال اس میں 200 سے زیادہ رکن ہیں، جو 40 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ چین کے صدر شی جی پھنگ نے ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن کے قیام کے موقع پر اپنے تہنیتی پیغام میں زور دیا کہ چین مشترکہ مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ استفادے کے نظریے کی پیروی کرے گا، ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن کے کردار کی حمایت کرے گا، تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ڈیٹا کے نظم و نسق کے قواعد کے حوالے سے اتفاق رائے قائم کرے گا، ڈیجیٹل اورانٹیلیجنٹ ٹیکنالوجی کی جدت کو فروغ دے گا، ڈیٹا کی حفاظت کو منظم کرے گا، اسے موثر انداز میں ترقی دے گا، اور عالمی ڈیجیٹل معیشت کی صحت مند ترقی کے لیے اپن خدمات دے گا ، تاکہ ڈیٹا کے فوائد زیادہ بہتر طریقے سے دنیا تک پہنچیں۔

ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن چین کی تجویز پر قائم ہوئی اور اس کا صدر دفتر بیجنگ میں قائم کیا گیا، جس سے ایک بڑی ڈیٹا پاور کی حیثیت سے چین کی ذمہ داری ظاہر ہوتی ہے ۔

یہ تنظیم بین الاقوامی ڈیٹا تعاون کو گہرا کرنے اور عالمی ڈیٹا گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، اور توقع ہے کہ تمام ممالک مربوط تعاون کے ذریعے مختلف ڈیٹا پالیسیوں کے مسائل کو حل کریں گے اور ڈیٹا کی اجارہ داری کو ختم کرنے، ڈیٹا کی گردش کو فروغ دینے، ڈیجیٹل معیشت کو خوشحال بنانے، اور گلوبل ساوُتھ ممالک کی ترقی کی صلاحیت بڑھانے میں مدد کریں گے۔ یہ بھی توقع ہے کہ تما م ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ڈیٹا کی حفاظت، مصنوعی ذہانت اور دیگر متعلقہ قراردادوں کے نفاذ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
ورلڈ ڈیتا آرگنائزیشن کا بیجنگ میں قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری چین کی ڈیٹا ترقی اور ڈیٹا مینجمنٹ کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتی ہے، اور یہ اقدام بین الاقوامی توقعات کے بھی عین مطابق ہے۔

انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن کے اندازوں کے مطابق، 2025 تک چین کے پاس موجود ڈیٹا کا حجم عالمی کل کا 27.8 فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ چین کی ڈیجیٹل معیشت کا حجم کئی برسوں سے مسلسل دنیا میں دوسرے نمبر پر برقرار ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 1.125 ارب تک پہنچی ، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اس کے استعمال کے شعبے بھی چین عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ، چین نے ڈیٹا کے استعمال اور تحفظ کے میدان میں بھی مفید تجربات حاصل کیے ہیں، جنہیں دنیا کے ساتھ شئیر کیا جا سکتا ہے ۔

مستقبل میں، چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ایک زیادہ منصفانہ، کھلے، محفوظ اور جامع عالمی ڈیٹا گورننس سسٹم کے قیام کو فروغ دے گا، تاکہ دنیا مشترکہ کامیابی حاصل کر سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں