اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)نائب صدر پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک کے صدر نے میرے موقف کی تائید کر دی، پاکستان کو اگلے دس برسوں میں تقریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ پاکستان کو اگلے دس برسوں میں تقریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے بھی میرے موقف کی تائید کر دی۔ انہوںنے کہاکہ بلند ٹیکس شرح سرمایہ کاری اور روزگار دونوں کو دبا رہی ہیں، بڑھتی بیروزگاری کی بڑی وجہ یہی ہے۔
انہوںنے کہاکہ پاکستان کی معاشی شرح نمو آبادی کے دباؤ سے کہیں کم ہے، معیشت کو کہیں زیادہ رفتار سے بڑھنا ہوگا۔ سابق وزیر نے کہاکہ ملک میں آبادی کی شرح نمو تقریباً 2.6 فیصد ہے جو معاشی شرح نمو سے زیادہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان واحد ملک بنتا جا رہا ہے جہاں آبادی اور معیشت کا عدم توازن مالتھس کے نظریے کو درست ثابت کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 7 فیصد سے زائد ہے، اس کے باوجود حکومت کے پاس روزگار پیدا کرنے کا واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔ سابق وزیر نے کہاہک میں نے دو دن قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں کہا تھا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بند کرنا مگر صنعت کو روزگار کے لیے مراعات نہ دینا کوئی منصوبہ نہیں۔
انہوںنے کہاکہ صرف خسارے میں چلنے والے ادارے بند کرنے سے روزگار پیدا نہیں ہوگا جب تک مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فعال نہ کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں 90 فیصد روزگار نجی شعبہ پیدا کرتا ہے، بھاری ٹیکسز اور خطے میں توانائی کی بلند ترین لاگت کے باعث سرمایہ کاروں کا رخ پاکستان سے باہر ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت بڑے کاروباروں پر ٹیکس اور سپر ٹیکس لگا کر انہیں ملک سے باہر جانے پر مجبور کر رہی ہے، یہ اشرافیہ کے مفادات کا دفاع نہیں بلکہ معیشت کی زمینی حقیقت کا ادراک ہے، جہاں گروتھ ناکافی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سوال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر نوکریاں آخر کہاں سے آئیں گی،
سروسز سیکٹر تمام بے روزگار افراد کو اکومودیٹ نہیں کر سکتا، نہ ہی زراعت میں اتنی گنجائش ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ نوجوانوں کو روزگار نہ ملا تو بے روزگاری، عدم تحفظ اور ملک چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوگا، روزگار کے بغیر معاشی اصلاحات عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہوں گی۔









