محمد جاوید قصوری 20

نیپرا کی رپورٹ حکومت اور بجلی کے اداروں کی ناکامیوں کا واضح ثبوت ہے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ نیپرا کی رپورٹ حکومت اور بجلی کے اداروں کی ناکامیوں کا واضح ثبوت ہے، بجلی کمپنیوں میں کرپشن، نااہلی اور انتظامی غفلت نے اس اہم شعبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عوام کو مہنگے بلوں اور لوڈشیڈنگ کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے، حکمران طبقہ ہر محاذ پر بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری جانب بجلی کے شعبے میں ہونے والے اربوں روپے کے نقصانات کو جواز بنا کر مزید بوجھ صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب نقصانات کی اصل وجہ ناقص حکمرانی اور کمزور انتظام ہے تو اس کی سزا عوام کو کیوں دی جا رہی ہے؟۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری لائے بغیر، لائن لاسز کم کیے بغیر اور ریکوری کے نظام کو شفاف بنائے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کمپنیوں میں فوری اصلاحات کی جائیں، کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جائے۔اگر حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور شفافیت کو یقینی نہ بنایا تو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کابینہ کی جانب سے وزرا اور سرکاری افسران کے لیے ایک ارب 14 کروڑ روپے مالیت کی نئی گاڑیاں خریدنا قابل مذمت ہے ۔ ایسے وقت میں جب صوبے کے عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے دوچار ہیں، حکمرانوں کا شاہانہ اخراجات پر اصرار عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وزیر اعلیٰ اور کابینہ عوامی ریلیف کے بجائے شاہ خرچیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سرکاری وسائل کو ذاتی آسائشات اور پروٹوکول پر خرچ کرنا ناقص حکمرانی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عوام سے لیے گئے ٹیکس اسی لیے ہیں کہ وزرا اور افسران کے لیے نئی اور مہنگی گاڑیاں خریدی جائیں جبکہ سرکاری ہسپتال، اسکول اور دیگر عوامی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں؟۔

امیر جماعت اسلامی پنجاب کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی سادگی اور کفایت شعاری کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔ شاہانہ پروٹوکول اور فضول اخراجات نے ریاستی نظم و نسق کو کمزور کر دیا ہے اور عوام کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لیا جائے اور وسائل کو عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں