نیب لاہور 245

نیب لاہور نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں 1007 گاڑیوں کی بوگس رجسٹریشن کا بڑا اسکینڈل بے نقاب کر دیا

رپورٹنگ آن لائن۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں گاڑیوں کی بوگس رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے ایک بڑے اسکینڈل کا سراغ لگا لیا ہے، جس میں ایک ہزار سات (1007) گاڑیاں بایومیٹرک تصدیق کے بغیر ٹرانسفر اور رجسٹر کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق، نیب لاہور نے اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے 25 ایکسائز انسپکٹرز، 14 موٹر رجسٹریشن اتھارٹی (MRA) افسران اور ایک پروگرامر کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب نے ڈی جی ایکسائز پنجاب کو مراسلہ ارسال کر کے تمام ملوث افسران کی تفصیلات فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس کیس میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا ملازم رانا محمد حارث اور دیگر ملازمین کے علاؤہ دیگر بھی ملوث بتائے گئے ہیں۔

دوسری طرف نیب انکوائری میں شامل انسپکٹرز کی ابتدائی فہرست میں عامر رشید، امجد بھٹی، اظہر بشیر، خالد بشیر، غلام مہدی، غلام رضا وٹو، حسن عباس، خالد محمود، ملک اشرف، عامر سہیل، امجد بٹر، فاروق، عمران، اقبال، نوید، ریاض، رضوانی، قرۃالعین منور، سیف اللہ، عمر جاوید اور دیگر شامل ہیں۔
نیب لاہور
ایم آر اے افسران کی فہرست میں عبدالحئی، بشیر احمد، دانیال صفدر، محمد ندیم، محمد یونس، منور رند، ندیم محی الدین اور سید حبیب عالم و دیگر کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں ایک پروگرامر کو بھی مبینہ طور پر اس اسکینڈل میں ملوث قرار دیا گیا ہے اور اسے نیب تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق، اس اسکینڈل میں ملوث تمام افسران کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی اور کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔ نیب کا مؤقف ہے کہ عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں