کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سید نہال ہاشمی آج شام چھ بجے سندھ کے 35 ویں گورنر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔
تقریب میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر راجپوت ان سے عہدے کا حلف لیں گے، اس موقع پر وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، بار کونسل کے عہدیدار اور مسلم لیگ ن کے رہنما سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہوں گے۔
نامزد گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بلاتفریق ہر شخص کی خدمت کریں گے اور اپنی زندگی کی سیاسی جدوجہد کو عوام کی خدمت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے فروغ کے لیے جو بھی کر سکیں گے، کریں گے۔
قبل ازیں صدر مملکت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری دی، سرکاری ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت گورنر سندھ کی تقرری کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا، اس منظوری کے بعد نہال ہاشمی کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کی راہ ہموار ہو گئی۔
نامزد گورنر سندھ نہال ہاشمی اسلام آباد سے کراچی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے اپنی نئی ذمہ داری کے حوالے سے ابتدائی ردعمل بھی دیا کہ حلف اٹھانے کے بعد وہ اپنی ترجیحات طے کریں گے اور آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے، ایک آئینی گورنر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں گے۔
دوسری جانب گورنر سندھ کی تبدیلی کے فیصلے پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے اور گورنر سندھ کا عہدہ روایتی طور پر ایم کیو ایم کے پاس رہا ہے، اس عہدے سے ایم کیو ایم کو محروم کیا جا رہا ہے جو پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم پاکستان سے ہوتا ہے، اس لیے موجودہ فیصلہ پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے، اگر حکومت اس طرح کے یکطرفہ فیصلے کرتی ہے تو پھر حکومت میں رہنے کا جواز بھی ختم ہو جاتا ہے، ایم کیو ایم کو فوری طور پر وفاقی حکومت سے علیحدگی پر غور کرنا چاہئے۔
ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں کہا کہ انہیں گورنر سندھ کی تبدیلی کے فیصلے کے بارے میں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا، وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، پارٹی اس فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔









