شہباز اکمل جندران۔۔۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈز کی شارٹیج کا ایشو لمبے سے چل رہا ہے۔ صالحہ سعید نے تعیناتی کے بعد اس ایشو کو حل کرنے کی کوششیں کی ہیں۔لیکن وہ سردست کامیاب نہیں ہوپارہیں جس کی بڑی وجہ
یہ ہے کہ نمبر پلیٹس، سمارٹ کارڈز اور ٹی او فارم کی ترسیل و تقسیم کے لیئے بھرتی کیئے جانےوالے سپر وائزروں نے ڈی جی آفس میں ڈیرے جمالیئے ہیں ۔

معلوم ہوا ہے کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈز کی ترسیل و تقسیم کے لئے سپروائزوں کی ریکروٹمنٹ کی۔
تاہم سپروائزروں کی زیادہ تعداد لاہور جیسے من چاہے سٹیشنز پر اپوائنٹ ہے۔اور سپروائزروں کی اپواینٹنگ اتھارٹی اے ڈی جی ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب راو شکیل الرحمن بھی اس حوالے سے بے بس بتائے جاتے ہیں۔

محکمے کے کئی ڈائریکٹوریٹس میں سپروائزر تعینات ہی نہ ہیں جس کی وجہ سے ایسے شہروں میں نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈز کی کمی بحرانی کیفیت جیسی ہے۔

اس ضمن میں کئی ڈائیریکٹر، ڈی جی ایکسائز کو خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ بھی کرچکے ہیں۔لیکن صالحہ سعید اس مسئلے پر قابو نہیں پاسکیں اور نہ ہی اے ڈی جی راو شکیل الرحمن
سپر وائزروں کو ان کے پوسٹنگ کے اضلاح میں بھیجنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ گوجرانوالہ میں ملک مبشر نامی سپروائز تعینات تھا جو بعدازاں ٹرانسفر کروانے کے بعد ڈی جی آفس میں تعینات ہوچکا ہے۔اسی طرح حافظ آباد میں تعینات ہونے والی فاطمہ اور عمر، معیز، زبیر، عاطف و دیگر بھی ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب آفس میں تعینات ہیں۔
سپر وائزروں کی کمی کے باعث صوبے کے مختلف شہروں میں نمبر پلیٹس، سمارٹ کارڈز اور ٹی او فارم کی شارٹیج پیدا ہوئی ہے۔









