شہباز اکمل جندران۔۔۔
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ میں ان دنوں کرپشن کا راج ہے۔بورڈ کے ایم ڈی فاروق منظور اور ڈائیریکٹر مسودات عبداللہ فیصل کا پرائیویٹ پبلشرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم ڈی فاروق منظور اور ڈائیریکٹر مینوسکرپٹ عبداللہ فیصل نے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض پرائیویٹ پبلشرز کی چھٹی سے 12 ویں جماعت تک کی 114 کتابوں کو ایسے وقت میں ٹیکسٹ بکس تسلیم کرتے ہوئے این او سی جاری کئے ہیں جب کے صوبے میں چھٹی سے بارہویں جماعت تک کوئی سلیبس لاگو ہی نہ ہے۔
بورڈ نے 2018 اور 2019 میں اپنا کریکولم متعارف کروایا تھا تاہم سنگل نیشنل کریکولا کے باعث ان پر کریکولا پر عمل درآمد روک دیا گیا۔

جبکہ اس وقت صوبے میں پہلی سے پانچویں جماعت تک سنگل نیشنل کریکولم کا نفاذ ہو چکا ہے البتہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک ابھی تک نیا نصاب لاگو نہیں ہوسکا۔
اور جہاں تک بات 2006، 2009 یا 2015 سے پہلے کے سلیبس کی ہے تو 2019 میں نیا نصاب نوٹیفائیڈ ہونے کے بعد پرانے سلیبس کے تحت کسی بھی کتاب کی بطور ٹیکسٹ بک منظوری دینا پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی ہوگا۔

پی سی ٹی بی کی طرف سے سلیبس کے بغیر ہی جب پبلشرزکی کتابوں کو نصابی کتب تسلیم کرتے ہوئے این او سی جاری کیئے گہرے ہیں ان میں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،دانش پبلیکیشنز،آفاق ایسوسی ایٹس، کیمبرج یونیورسٹی پریس، گوہر پبلشرز،بابر بک ڈپو، ایم کے بکس۔ جناح بک ہاوس، مقبول بکس،منور پبلشرز، سنومین پبلشرز، الباکیو انٹرنیشنل، مون لائٹ پبلشرز۔آئی ٹی سیریز پبلشرز، اے ایچ ٹی پبلشرز وغیرہ شامل ہیں۔






