واشنگٹن ( رپورٹنگ آن لائن)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ کو نوٹ دیا جسے انہوں نے فورا اونچی آواز میں پڑھ ڈالا۔
ٹرمپ اور دیگر حکام تیل کی بڑی کمپنیوں کے اعلی حکام سے ملاقات کر رہے تھے، اس ملاقات کا مقصد انہیں وینزویلا میں تیل کی پیداوار کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا تھا۔ آئل کمپنیوں سے بات چیت کے دوران ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک چھوٹے سیکاغذ پر کچھ لکھ کر ٹرمپ کو دیا جسے انہوں نے فورا ہی بلند آواز میں پڑھ ڈالا جس پر امریکی وزیر خارجہ صدر کا منہ تکتے رہ گئے ۔
مارکو روبیو کا دیا گیا نوٹ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مارکو نے مجھے ابھی ایک نوٹ دیا ہے، اور پھر اسے اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا۔ نوٹ میں لکھا تھا کہ شیوران آئل کمپنی پر پاس واپس جائیں، وہ کسی بات پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔روبیو کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ٹھیک ہے میں شیوران کے پاس واپس جا رہا ہوں، اس کے بعد صدر نے ہنستے ہوئے کہا، شکریہ، مارکو۔









