پرتگال 52

موٹر سائیکل میکینک سے ورلڈ چیمپئن تک: چائینیز ڈریم کی بدولت انفرادی خوا ب کی تکمیل

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) 28 سے 29 مارچ تک پرتگال کے پورٹیماؤ میں الوارو انٹرنیشنل سرکٹ پر منعقدہ ورلڈ سپر بائیک چیمپئن شپ (WSBK) کے پرتگال راؤنڈ میں مڈل ویٹ کلاس ریس کے دوران، فرانسیسی ڈرائیور ویلنٹائن ڈیبیس نے چینی موٹرسائیکل جانگ شوئے پر سوار ہو کر دوہرا ٹائٹل جیتا، جو پورے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا۔ یہ کہانی اس موٹر سائیکل ریسر کی کامیابی کی ہی نہیں بلکہ انتالیس سالہ جانگ شوئے کی کامیابی کی بھی ہے جو چین کے صوبہ ہونان کے دیہی علاقے سے نکلنے والا ایک نوجوان ہے ، جس نے قریب دو دہائیوں کی لگن سے ایک موٹر سائیکل میکینک کے شاگرد سے ورلڈ چیمپئن بننے کا کامیاب سفر طے کیا ۔

جانگ شوئے کے خوابوں کا سفر ہمیشہ سے مشکل اور قسمت سے لڑتا رہا ۔ تین سال کی عمر میں والدین کا علیحدہ ہو جانا، دس سال کی عمر میں بہن کے ساتھ ایک ایسے جھونپڑے میں زندگی گزارنا جس سے نہ ہوا رکتی ہو اور نہ بارش کا پانی اور پھر چودہ سال کی عمر میں اسکول چھوڑ کر موٹر سائیکل میکینک بننے کا سفر ۔جانگ شوئے کی زندگی ہمیشہ مشکل رہی لیکن مشکلات نے کبھی اس کے دل میں موجود شعلہ کو بجھنے نہیں دیا۔ پہلی بار موٹرسائیکل کو ہاتھ لگاتے ہی، رفتار اور خوابوں کو پانے کی خواہش مصائب کے خلاف اس کے لیے جدوجہد کی روشنی بن گئی۔ ایک پیشہ ور ٹیم میں شامل ہونے کا موقع حاصل کرنے کے لیے، اس نے ٹیلی ویژن کے کیمرا گروپ کے پیچھے سو سے زیادہ کلومیٹر تک موٹرسائیکل چلائی ، صرف اس لیے کہ ٹی وی پروگرام میں آنے سے لوگ اسے پہچان سکیں ۔ یہ “ہار نہ ماننے کا عزم” ہی تھا جس نے اسے رکاوٹوں کو توڑنے کی طاقت دی، اور یہی ہر خواب دیکھنے والے کی سب سے قیمتی خوبی ہے۔

لیکن چاہے خواب کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں، محض ذاتی کوششوں سے پورے نہیں ہوتے ۔ جانگ شوئے کی اس کامیابی کے پیچھے چین کی قومی ترقی اور اس سے ملنے والے مواقعوں کا کردار بھی اہم ہے۔ جانگ شوئے نے چھونگ چھینگ شہر کو اپنا مسکن اور مرکز بنایا کیونکہ یہاں چین کی سب سے ترقی یافتہ موٹرسائیکل انڈسٹری موجود ہے۔ لونگشِن، زونگشین اور دیگر کمپنیاں جنہوں نے مکمل سپلائی چین قائم کی ہے اور بے شمار تجربہ کار انجینئرز اور ماہر کاریگر تیار کئے ہیں، جانگ شوئے کے اس کاروباری سفر کو مضبوط سہارا فراہم کیا ۔ اگر چینی مینوفیکچرنگ انڈسٹری ان گزشتہ سالوں میں مستحکم ترقی نہ کرتی اور اسٹیل کی طاقت سے لے کر پروسیسنگ کی درستگی تک مکمل پیش رفت نہ ہوتی، تو چاہے جانگ شوئے کتنا ہی مستقل مزاج کیوں نہ ہوتا، وہ یورپ، امریکہ اور جاپان کی بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرنے والی ریسنگ موٹرسائیکل تیار نہ کر پاتا، اور دنیا کے اعلیٰ ترین ریس ٹریکس پر اچانک شہرت حاصل کرنا ایک خواب ہی رہتا ۔

خوابوں کا ذکر آتے ہی لوگوں کا ذہن امریکن ڈریم کی طرف جاتا ہے۔ امریکن ڈریم ذاتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے، یہ یقین رکھتا ہے کہ “ذاتی محنت سے ہی خواب ضرور پورے ہو سکتے ہیں”، درحقیقت یہ بیان بیرونی حالات کی اہمیت کو نظرانداز کرتا ہے۔ مناسب زمین کے بغیر، خوابوں کی شاخیں پھوٹ نہیں سکتیں۔ چائنیز ڈریم ہمیشہ سے قومی خوشحالی، قومی نشاۃ ثانیہ اور عوامی خوشحالی کو مرکز میں رکھتا ہے، اور اجتماعی خوشحالی پر زور دیتے ہوئے، کبھی بھی ہر فرد کے خواب کی حمایت کرنا نہیں بھولتا۔ یہ افراد کو تنہا جدوجہد کرنے پر نہیں چھوڑتا، بلکہ ایک مربوط صنعتی نظام قائم کرتا ہے، منصفانہ ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاکہ ذاتی کوششیں استعمال میں آسکیں اور افراد کے خواب پھل پھول سکیں۔

جانگ شوئے کا چیمپئن بننا درحقیقت چائنیز ڈریم کی طرف سے انفرادی خوابوں کی تعبیر کی ایک واضح مثال ہے۔ کئی دہائیوں پہلے، چینی موٹرسائیکلوں پر “سستی اور ، کم معیاری ” کا لیبل لگا ہوا تھا، اور چینی انجنوں اور غیر ملکی انجنوں کے درمیان بہت بڑا فرق تھا۔ آج، جانگ شوئے موٹرسائیکل نے اس میدان میں اجارہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے چیمپئن شپ جیتی ہے۔ ڈرائیور ویلنٹائن ڈیبیس نے جانگ شوئے موٹرسائیکل کی کارکردگی کی بدولت، سیدھے راستے پر “اچانک تیز رفتاری” سے حریف کو پیچھے چھوڑ دیا اور 4 سیکنڈ کے فرق سے زبردست فتح حاصل کی۔

یاد رہے کہ اس رفتار والی ریس میں 4 سیکنڈ کا فرق، میراتھن ریس میں 400 میٹر کی برتری کے برابر ہے، جس سے پوری دنیا نے جانگ شوئے موٹرسائیکل کی چیمپئن شپ جیتنے کی مکمل صلاحیت کا مظاہرہ دیکھا ۔ اس تیز رفتار منظر کے پیچھے، چینی صنعت کا مکمل عروج ہے، چینی حکومت کی طرف سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو اپ گریڈ کرنے کے لیے فراہم کی جانے والی پالیسیاں اور وسائل کی مدد ہے۔ “ملک کی طرف سے اسٹیج تیار کرنا،اور افراد کی طرف سے اداکاری کرنے ” کا یہ ماڈل، جانگ شوئے جیسے بے شمار خواب دیکھنے والوں کو حالات کی قید کو توڑنے،اور اپنی محنت سے زندگی کی قدر پانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

آج کے چینی نوجوان خوابوں کو پرواز دینے کے بہترین دور میں ہیں۔ چائنیز ڈریم کی پیش رفت سے چینی مینوفیکچرنگ انڈسٹری مسلسل اعلیٰ سطح کی طرف بڑھ رہی ہے، مزید نئی صنعتیں ابھر رہی ہیں، جو خواب دیکھنے والوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مواقع فراہم کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ” جانگ شوئے ” جیسے بے شمار افراد کی کوششیں، صنعتی طاقت کو اضافہ بخش رہی ہیں، اور قومی نشاۃ ثانیہ کے سفر میں دلچسپ کہانیاں لکھ رہی ہیں ۔ جانگ شوئے میں وہ جذبہ جو بچپن سے لے کر ادھیڑ عمری تک کبھی بجھا نہیں، درحقیقت ایک پورے دور کا عکاس ہے۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جس پر ایک زبردست فلم بن سکتی ہے ،سو انتظار رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں