لاہور ہائی کورٹ 56

موٹروہیکلزترمیمی ایکٹ2025ء کے تحت گاڑیوں کی ضبطگی و نیلامی کا اختیار ہائیکورٹ میں چیلنج

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں موٹر وہیکلز ترمیمی ایکٹ 2025ء کے تحت ای چالان کی عدم ادائیگی پر گاڑیوں کی ضبطگی اور نیلامی کے اختیار کو چیلنج کر دیا گیا،عدالت نے پنجاب حکومت، سیکرٹری ہوم، آئی جی پنجاب پولیس، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، چیف ٹریفک آفیسر اور سیف سٹی اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری فلک شیر کی دائر کردہ درخواست پر حکم جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے مظہر امین چدھڑ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ موٹر وہیکلز ایکٹ میں 30مئی 2025ء کو ترمیم کی گئی، جس کے تحت ای چالان کو یکم اکتوبر 2018ء سے قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ ترمیم کے مطابق اگر ایک ماہ کے اندر ای چالان کی ادائیگی نہ کی جائے تو متعلقہ گاڑی کو ضبط کرنے اور بعد ازاں نیلام کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2018ء سے ای چالان کو ماضی سے لاگو کرنا غیر قانونی اور آئین کے منافی ہے کیونکہ اس طرح قانون کو ماضی پر نافذ کیا جا رہا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 12سے متصادم ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی شہری کو محض جرمانے کی عدم ادائیگی پر اس کے حقِ روزگار سے محروم نہیں کیا جا سکتا جبکہ کسی ڈرائیور کی غلطی کی سزا گاڑی کے مالک کو دینا بھی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965ء کے سیکشن 116 میں کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے جبکہ ای چالان کے تحت جرمانوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں گاڑیوں کی ضبطگی اور نیلامی کا اختیار بھی غیر آئینی قرار دے کر ختم کیا جائے۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت بعد کی تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں