لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ امریکی ارب پتیوں کے مخالفانہ اتحاد ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی شدید مخالفت ، اپنی جماعت کی اندرونی مخالفت ایک مسلم سوشلسٹ تارک ِوطن کو دنیا کے اہم ترین شہر کی قیادت سے نہ روک سکی،محض نو فیصدمسلمانوں کی آبادی کے شہر نیویارک کی غیر مسلم اکثریت نے ہرطرح کے تعصب ، نفرت اور بغض کی دیواریں گرا کر ظہران ممدانی کو کامیاب کروا دیا، ممدانی کی فتح اور غزہ کیلئے امریکی عوام کی برملا حمایت سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکی معاشرہ 9/11 کے بعد پیدا ہونے والے اینٹی مسلم ہیجان سے باہر نکل رہا ہے ۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ امریکہ کی اصل طاقت ہی اس کی اندرونی آزادی اور اپنے آئین پر عملدرآمد میں مضمر ہے۔اگر آپ باصلاحیت ، محنتی ، قانون کے پابند ،سچے اور دیانتدار ہیںتو امریکی معاشرہ آپ کو آگے بڑھنے کا راستہ دیتاہے اور آپ کی صلاحیت کو اپنی طاقت میں ڈھال لیتا ہے ۔جدید ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بانی ابر اہم لنکن نے طویل خانہ جنگی کے خاتمے پر خطاب میں کہا تھا کہ اپنی زمینیں لشکر کشی سے نہیں تنازعات کا حل تلاش کر کے جیتی جاتیہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم ووٹ کی طاقت کو شک بھری نظر سے دیکھتے ہیں ، ووٹ کے فیصلوں کو بار بار مسترد کرتے ہیں ، صلاحیتوں پر قدغن عائد کرتے ہیں ،جھوٹ کو اپنی ڈھال بناتے ہیں ، من مرضی کی قانون سازی کرتے ہیں ، ریاست سوتیلا باپ بنی رہتی ہے ، حکومتیں سول ہوںیا مارشل لاء یا ملی جلی ، اختیارات کی عام آدمی تک منتقلی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ کوئی ریاست یا کوئی معاشرہ عدل ، انصاف ، آزادی کے بنیادی اصولوں کو پامال کر کے آگے نہیں بڑھ سکتا،ایک دوسرے کو تہ تیغ کرکے ریاست کو آگے بڑھانے کے دعوے محض خواب یاسراب رہیں گے۔









