ملک محمد احمد خان 28

ملک اس وقت شدید اضطراب ،داخلی دبا ئوکا شکار ،شدید شورش جنم لے رہی ہے’ملک محمد احمد خان

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید اضطراب اور داخلی دبا ئوکا شکار ہے،حکومت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تفصیلی جواب دیا ہے اور واضح دکھائی دیتا ہے کہ ملک کے داخلی معاملات پر شدید شورش جنم لے رہی ہے، سپہ سالار کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابلِ برداشت ہے، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے،پورا نظام کسی وجہ سے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔

پنجاب اسمبلی کی اولڈ بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں گروہ بندی کے شواہد موجود رہے ہیں۔پانچ مخصوص ججز کے سامنے گزشتہ تین برسوں کے دوران ایک ہی نوعیت کے 31مقدمات پیش کیے گئے، چاہے وہ نواز شریف، حنیف عباسی یا حمزہ شہباز کے فیصلوں سے متعلق ہوں۔ سپیکر ملک محمد احمد خان کہا کہ 2018ء کے بعد سے یہ طے کردیا گیا کہ پارلیمان میں صرف شور شرابہ ہوگا، بجٹ سیشن سے لے کر عام قانون سازی تک کسی معاملے پر سنجیدہ گفتگو نہیں ہونے دی گئی۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اسمبلی میں ڈائس پر چڑھ کر ہنگامہ آرائی کی گئی، گریبان پکڑے گئے، عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ خیبر پختونخوا ہ میں ہونے والے حالیہ جلسے کی زبان کو شرمناک قرار دیتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ وفاقی وزراء کو جلسے میں کتا کہا گیا، جو سیاسی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے قابل مذمت ہے۔

ماضی میں پی ٹی آئی کے ایک رکن نے ان کے سامنے عمران خان کو فون کیا تھا۔میں نے لائوڈ سپیکر پر خود سنا کہ عمران خان نے کہا اگر میں ان لوگوں کو چھوڑ دوں گا تو میری سیاست ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور میں سیاسی ڈائیلاگ ختم کر دیا اور سی پیک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں سیاسی مخالفین پر بدترین انتقام کیا گیا، چھ ماہ تک غیر ضروری جیلیں بھری گئیں، گھروں کو مسمار کیا گیا اور کاروباری لوگوں کو بلاجواز کیسز میں کھڑا کیا گیا۔

سپیکر ملک محمد احمد خاں نے 9 مئی واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان واقعات کے بعد بطور پاکستانی خوفزدہ اور شرمندہ ہوئے۔ میں افواجِ پاکستان کی وردی کی عزت پر مر مٹنے کو تیار ہوں۔ فوجی سربراہ کو ہدف بنانا بدترین دشمنی ہے۔ نو مئی کو 27 چھائونیوں پر منظم حملے ہوئے، لاہور کور کمانڈر ہائوس اور قومی پرچم جلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مزید تقسیم، عدلیہ کو مزید متنازع اور پارلیمان کو مزید کمزور کرنے کی کوششوں کو روکنا ہوگا۔یہ ملک کسی دشمنی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت نازک ہے، اسے گالیوں اور سازشوں سے نہیں چلایا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں