ملکی ایکسپورٹ 133

ملکی ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں مگر تجاتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے،چیئرمین ایف بی آر

کراچی ( رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) ڈاکٹر محمد اشفاق نے کہا ہے کہ ہم نے ملکی تاریخ میں نہ صرف پہلی مرتبہ ریونیو ہدف حاصل کرلیا ہے بلکہ ہم اہداف سے بہت آگے نکل آئے ہیں، ہم جی ڈی پی کا 10 فیصد ٹیکس جمع کرتے ہیں، ہمارے اخراجات 20 فیصد جی ڈی پی ہے،ہمیں 8 فیصد جی ڈی پی کے مساوی قرض لینا پڑتا ہے، دوسرا مسئلہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے، ہمارا انحصار درآمدی اشیا پر ہے، ہم آئی ایف کے پاس کئی بار جاچکے ہیں،آئی ایم ایف کے پاس بار بار جانا ہمارے معاملات کو پیچیدہ بناتا ہے ،ملکی ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں مگر تجاتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے،ہم اپنی معیشت کو بہتر نہیں چلاتے اورہمیں بار بار آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑتاہے جس وجہ سے ہمارے لئیے پالیسی بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی)میںممبران سے خطاب کے دوران کیا۔

اس موقع پر صدر کراچی چیمبر محمدادریس نے کراچی کی بزنس کمیونٹی کے مسائل اورٹیکسیشن ،بجٹ کمیٹی کے سربراہ ابراہیم کسومبی نے بجٹ تجاویز پیش کیں جبکہ بی ایم جی کے چیئرمین زبیرموتی والا،انجم نثار،جاوید بلوانی،عبدالرحمان نقی نے بھی خطاب کیا اس موقع پر چیف کمشنر ڈاکٹر آفتاب امام،ایف بی آر کے افسران میربادشاہ خان،حیدرعلی دھاریجو،واجد علی،عبدالقادر میمن، مجیدعزیز اورقاضی زاہد حسین بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر محمد اشفاق نے کہا کہ نے کہا کہ ہم آمدنی کا ہدف حاصل کرلیں گے، ایکسپورٹرز کے ری فنڈ ادا کرنے سے اعتماد کی فضاء بنی ہے، ٹیکس محاصل زیادہ جمع ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے،کھانے کا تیل اور کھانے کی اشیاء ہم باہر سے منگواتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر بہت اعتراض آیا ہے، سی این آئی کی شرط ایک لاکھ روپے سے بڑی ادائیگی پر آتی ہے ،یہکیسے ممکن ہے کہ بزنس ٹو بزنس ٹرانزیکشنز کریں اور آپکو پارٹی کا پتہ نہ ہو۔

ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ امپورٹ اسٹیج پرٹیکسوں سے مہنگائی کو کم کرسکتے ہیں ، ودھ ہولڈنگ ٹیکس آمدنی پر ہونا چاہیے، ٹرانزیکشن پر نہیں ہونا چاہیے۔ چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ کراچی چیمبر اور کراچی کے تاجروں نے پوائنٹ آف سیل پر بہت اچھا ریسپانس دیا لیکن جو لوگ اس کا غلط استعمال کررہے ہیں انہیں گرفت میں لیں گے، پوائنٹ آف سیل پر پورے ملک میں منسلک کرنے پر کام جاری ہے ،ابھی سیلز ٹیکس کا ریٹ بلند سطح پر ہے ، ہماری کوشش ہے مراعات ختم کرکے سیل ٹیکس ریٹ کم کیا جائے۔صدر کراچی چیمبر محمد ادریس کا خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پورٹ سٹی کراچی ملکی ٹیکس آمدنی کا اہم حصہ دار ہے،پائیدار نمو کے لئے حکومت جو اقدامات کررہی اس میں کاروباری طبقے کی رائے شامل ہو، ٹیکس دینے والے کا حال دیکھ کر ٹیکس نیٹ میں نہ آنے کو ترجیح دی جاتی ہے ، ٹیکس دینے والوں کی تعداد کا نہ بڑھنا اس کا سبب ہے، ہماری گذارش ہے کہ مراعات دیں تو سب کو دیں۔،قانون اور قواعد کا اچانک بدل جانا پریشانی کا سبب بنتا ہے ۔چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے کہا کہ جولائی سے جنوری کا ٹیکس ہدف سے زائد جمع کیا جوایف بی آر کی شاندار کامیابی رہی ہے،ٹیکس دینے والا کی تعداد 30 لاکھ ہوگئی،ٹیکس نیٹ بڑھا کر ہی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے ،

میرے اندازہ ہے کہ 80 لاکھ افراد کو ٹیکس ادا کرنا چاہیے، پی او ایس کے اطلاق پر میرا مشاہدہ ہے کہ چھوٹے دکاندار سخت پریشان ہے،میںچیمبر کی طرف سے کہتا ہوں کہ سب کو رجسٹرکیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا ایکسپورٹس حصہ کم کرانے کی کوشش ہورہی ہے، کراچی کا حصہ 54 فیصد کم ہوکر 50 فیصدرہ گیا ہے، کمائو پوت کے لئے اپنی پالیسی دیکھیں، وزیر اعظم کی ایمنسٹی پالیسی تحریری طور پر نہیں آئی، سولر اور ایل ای لائٹ پر 17 فیصد ٹیکس لگادیا ہے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ کسٹم پر ویلیو ایڈیشن تین فیصد ٹیکس کیوں کیا جارہاہے ،اس کو وضاحت کی جائے ، موجودہ سیاسی اور معاشی حالات پر ڈالر روز بہ روز مہنگا ہوتا چلا جارہاہے،عالمی اجناس کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہے،ٹیکس نظام مہنگائی کا سبب بن رہا ہے ۔وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی نے کہا کہ ایف بی آرفارماسوٹیکل کو ریفنڈ ادائیگی میں تاخیر پر رقم ادا کرے گاتو کیاکیا یہ ادائیگی دیگر ایکسپورٹس ریفنڈ کی تاخیر پر بھی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں