ملکہ حسن 46

ملکہ حسن کا تاج میکسیکو کی فاطمہ بوش کے سر سج گیا

بنکاک(رپورٹنگ آن لائن)تھائی لینڈ میں مس یونیورسٹی مقابلے کے فائنل میں ملکہ حسن کا تاج میکسیکو کی فاطمہ بوش کے سر سج گیا۔تفصیلات کے مطابق میکسیکو کی فاطمہ بوش لائیو اسٹریمڈ میٹنگ کے دوران تھائی ایونٹ ڈائریکٹر کی سرعام سرزنش کے بعد مداحوں کی پسندیدہ امیدوار کے طور پر ابھری تھیں،اس واقعہ کے بعد مقابلہ حسن میں شریک متعدد حسیناں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا تھا۔

میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ کاموں کیلئے جانی جاتی ہیں، ان کو بنکاک میں گزشتہ سال کی فاتح ڈنمارک کی وکٹوریا کیئر تھیلوِگ نے تاج پہنایا۔مس یونیورس کو عالمی سطح پر خوبصورتی کے مقابلوں کا سپر بال کہا جاتا ہے، جسے ہر سال لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں، ہر ملک کی نمائندہ مقامی نمایاں شخصیات کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے جو مس یونیورس آرگنائزیشن سے لائسنس حاصل کرتے ہیں۔تھائی لینڈ کی پراوینار سنگھ رنر اپ رہیں جبکہ وینیزویلا کی اسٹیفنی اباسالی، فلپائن کی آتھیسا مانیلو اور آئیوری کوسٹ کی اولیویا یاسے ٹاپ 5میں شامل رہیں۔ا

س سال کے میزبان ملک تھائی لینڈ کا فیشن انڈسٹری میں بڑا اور منافع بخش کردار ہے، اس بار 120ممالک کی نمائندہ خواتین نے حصہ لیا، ندین ایوب پہلی خاتون بنیں جنہوں نے فلسطینی عوام کی نمائندگی کی،وہ ٹاپ 30سیمی فائنلسٹ تک پہنچنے کے بعد باہر ہو گئیں۔فائنل کی میزبانی امریکی کامیڈین اسٹیو برائن نے کی ،جبکہ افتتاحی پرفارمنس تھائی گلوکار جیف سیٹر نے پیش کی۔

حتمی مقابلے میں شریک حسیناں سے ایسے سوالات پوچھے گئے کہ اگر انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا موقع ملے تو وہ کس عالمی مسئلے پر بات کریں گی، اور وہ مس یونیورس کا پلیٹ فارم نوجوان لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے کیسے استعمال کریں گی۔فاطمہ بوش نے اپنے جواب میں کہا کہ اپنی اصلیت کی طاقت پر یقین رکھیں، آپ کے خواب اہم ہیں، آپ کا دل اہم ہے، کبھی کسی کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو آپ کی قدر پر شک کرنے پر مجبور کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں