لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری کو کھلی جارحیت، بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کا یہ فیصلہ خطے میں امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے اور اس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیتزلئیل سموٹریچ کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی منظوری کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ صہیونی حکومت کسی بھی بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی ضمیر کی پرواہ نہیں کر رہی۔
مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے، اس کے باوجود اسرائیل مسلسل فلسطینی زمینوں پر قبضہ بڑھا رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے نشاندہی کی کہ 2005ء میں جن یہودی بستیوں کو ختم کیا گیا تھا، ان میں سے دو کو دوبارہ قائم کرنے کا فیصلہ انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں منظور کی جانے والی بستیوں کی تعداد 69 تک پہنچ جانا عالمی برادری کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ محض بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کریں۔محمد جاویدقصوری نے کہا کہ اگر عالمی ادارے واقعی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے احترام کے دعوے دار ہیں تو انہیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ٹھوس کردار ادا کرنا ہوگا۔نیز مسلم اُمہ کو اس مسئلے پر متحد ہو کر عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان ہمیشہ مظلوم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوج بھیجنے کی پیشکش پر امریکی وزیر خارجہ کے بیان نے شکوک وشہبات پیدا کر دیئے ہیں۔ حکومت فوری طور پر وضاحت کرے۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ پارلیمنٹ ایک ڈمی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔









