کاٹن مارکیٹ 184

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طورپر استحکام رہا

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طورپر استحکام رہا پرانی روئی کی بہت قلیل مقدار دستیاب ہے ضرورت مند ملز خریداری کر رہے ہیں جس کا بھاؤ 12500 تا 13000 روپے چل رہا ہے تھوڑا تھوڑا کام ہورہا ہے جبکہ نئی فصل کی پھٹی کی بھی جزوی طور پر آرائیول ہورہی ہے اور تقریبا سندھ میں 3 فیکٹریوں نے گیٹ کھول دیئے ہیں پنجاب میں موصولہ اطلاعات کے مطابق 2 یا 3 فیکٹریوں نے گیٹ کھول دیئے ہیں وہاں پھٹی کی آرائیول تھوڑی تھوڑی ہورہی ہے لیکن بورے والا کی ایک فیکٹری میں تقریبا ایک لاٹ کا مال پہنچ چکا ہے جبکہ سانگھڑ کی ایک فیکٹری میں بھی 2 ٹرکیں پہنچ چکی ہے اسی طرح ٹنڈو آدم میں ایک فیکٹری میں پھٹی کی آرائیول ہورہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ جون کے پہلے ہفتہ میں ہوسکتا ہے ان چاروں فیکٹریوں میں لاٹ تیار ہونا شروع ہوجائے جنرز نے ایڈوانس میں روئی فروخت کی ہوئی ہے تقریبا پنجاب میں 12500 اور سندھ میں 12200 روپے پر۔

بنولہ کا ریٹ اچھا جارہا ہے 2100 تا 2400 روپے کے درمیان بتایا جارہا ہے اسکے علاوہ پھٹی بھی تقریبا 5300 تا 6000 روپے فی 40 کلو فروخت ہورہی ہے گرمی بہت زیادہ ہے دوسری جانب پانی کا مسئلہ درپیش ہے پنجاب کے وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے بتایا ہے کہ پنجاب میں پانی کی 22 فیصد کمی ہے اور سندھ میں 17 فیصد کمی ہے لیکن سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی رسائی کی کشمکش چل رہی ہے پانی نہ ہونے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ گرمی نہ پڑھنے کی وجہ سے پہاڑوں سے برف نہیں پگھلی اس وجہ سے پانی کی قلت ہورہی ہے آئندہ دنوں میں جس طرح گرمی بڑھ رہی ہے برف پگھلنے لگے گی اور پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے اس کے علاوہ کوشش کی جارہی ہے کہ کپاس کی بوائی جاری رہے کپاس کی بوائی کے متعلق وفاقی فوڈ اینڈ ریسرچ کمیٹی کے ممبر اور PCCC کے وائس چیئرمین محمد علی تالپور نے نسیم عثمان کو بتایا کہ فی الحال سندھ میں روئی کی پیداوار کا رقبہ 17 لاکھ ایکڑ لگایا گیا ہے۔صوبہ پنجاب میں روئی کی پیداوار کا رقبہ 40 لاکھ ایکڑ کا لگایا گیا ہے پنجاب میں فی الحال 28 تا 30 لاکھ ایکڑ پر روئی کی بوائی ہوچکی ہے اسی طرح سندھ میں 13 تا 14 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کی فصل بوئی جاچکی ہے اور رفتہ رفتہ ایکریج بڑھتی جارہی ہے محمد علی تالپور نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ سیزن کی کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھیں مقرر کی گئی ہے۔

روئی کی نئی فصل کے سودے گاہے گاہے ہورہے ہیں اس کی رپورٹنگ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی دیتی رہتی ہے پچھلے ایک ہفتہ میں روئی کے اسپاٹ ریٹ میں تقریبا فی من 1000 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے جو 11300 سے 12300 روپے پر بند ہوا ہے۔صوبہ سندھ میں بہت ہی قلیل مقدار میں روئی بچی ہوئی ہے جس کا بھاؤ فی من 11000 روپے تک ہونا چاہئے جبکہ صوبہ پنجاب کی روئی کا بھاؤ فی من 12500 تا 13000 روپے ہیں۔فی الحال جنرز کے پاس کھل کا اسٹاک پڑا ہوا جسی وجہ سے وہ بہت پریشان ہے کیوں کہ جانور مس والی کھل نہیں کھا رہے لہذا بھینسوں کو ونڈا بنا کر کھلا رہے ہیں اس وجہ کھل کی مانگ بہت کم ہے۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طورپر تیزی کا رجحان رہا نیویارک کاٹن کا بھا جولائی ڈیلیوری میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے لیکن وہ 82 تا 83 امریکن سینٹ ہے علاوہ ازیں USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ 59 فیصد پچھلے ہفتہ کے مقابلے میں زیادہ ہوئی ہے

اس کے باوجود ٹیکساس جو سبسے زیادہ کپاس پیدا کرنے والا صوبہ ہے اس میں بارشیں ہونے کا اور ڈالر مضبوط ہونے کی وجہ سے وعدے کے بھا ؤمیں خاطر خواہ اضافہ نہیں دیکھا جارہا البتہ برازیل کی نئی فصل ابھی آنا شروع ہوگئی ہے اور وسطی ایشیا سوڈان وغیرہ کے مارکیٹوں میں روئی کا بھاؤ مستحکم ہے لیکن بھارت میں روئی کے بھاؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے گزشتہ دو ہفتوں میں تقریبا 1500 روپے فی کینڈی کا اضافہ ہوا اور جمعہ کے دن شنکر-6 کا ریٹ 47900 روپے کے لگ بھگ رہا نسیم عثمان کی بھارت کے بیوپاریوں سے بات ہوئی احمد آباد میں اجے دلال اور کاٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے چیئرمین اتول گناترا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ یہ ہے کہ یارن اور کپڑا اچھے ریٹ پر بک رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں