لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر زایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف نے معیشت کی ترقی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کم از کم دس سالہ متفقہ پالیسی کا ڈرافٹ تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہاہے کہ ایسا میکنزم بنایا جائے جس کے تحت حکومتوں کی تبدیلی کے اس پالیسی پر قطعی کوئی اثر ات مرتب نہ ہوں ، وقت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی سیاست اور اناء کو پس پشت ڈال کر میثاق معیشت کی طرف عملی پیشرفت کریں اور اس کی نگرانی کیلئے معاشی ماہرین پر مشتمل اعلیٰ سطحی با اختیار کمیٹی تشکیل دی جائے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایشن کے دفتر میں ہفتہ وار جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک ، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجا زالرحمان، سینئر ممبر ریاض احمد، سعید خان ، اکبر ملک، شاہد حسن ، عمیر عثمان سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں معیشت کی غیر یقینی صورتحال ، ڈالر کے اتار چڑھائو ، ہاتھ سے بنے قالینوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی درآمدات میں رکاوٹ سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ عثمان اشرف نے کہا کہ موجودہ حالات میں برآمدی شعبے شدید مشکلات سے دوچار ہیں جس کی وجہ سے مجموعی برآمدات تنزلی کا شکار ہو رہی ہیں اور اسی وجہ سے زر مبادلہ کے ذخائر پر دبائو آرہا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے گزشتہ دنوں برآمدی شعبوں کی مشکلات کے حل کیلئے اعلانات کئے گئے تھے تاہم ان پر اس رفتار سے پیشرفت نہیں ہو سکی جو حالات کا تقاضہ ہے ۔
انہوںنے کہا کہ غیر یقینی صورتحال اور الزام تراشی کی سیاست کی وجہ سے کاروباری طبقے کا اعتماد متزلز ل ہو رہا ہے ۔ کامیاب ممالک نے معیشت اور برآمدات کیلئے طویل المدت پالیسیاں مرتب کر رکھی ہیںاس لئے ہمیںبھی برآمدات میں کامیاب ممالک کی تقلید کرنا ہو گی اور اتفاق رائے سے کم از کم دس سال کیلئے ایسی معاشی پالیسی بنائی جائے جس پرحکومتوں کی تبدیلی کے کوئی اثرات مرتب نہ ہوں ۔ اگر ہم نے سیاست اور معیشت کو الگ الگ نہ کیا تو ہماری بقاء کو خطرات لا حق ہو جائیں گے ۔
٭٭٭٭٭








