پنجاب انفارمیشن کمیشن 162

معلومات کی راہ میں رکاوٹ ثابت۔ PIC کی نئیDecision پالیسی نوٹیفائیڈ ہی نہیں۔

شہبازاکمل جندران۔۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن، آرٹی آئی اپیلوں پر فیصلوں کے حوالے سے اعلان کردہ نئی پالیسی کی کاپی فراہم کرنے سے معذور ہوگیا۔

شہری نے آرٹی آئی ایکٹ 2013 کے تحت کمیشن سے 16 فروری کے ایک فیصلے شہبازاکمل جندران بنام ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں بیان کی گئی نئی Decision policy کی مصدقہ کاپی کے کئے درخواست دی تھی۔


چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب محبوب قادر شاہ اور انفارمیشن کمشنر ڈاکٹر عارف مشتاق نے مذکورہ فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اپیلوں کے فیصلوں کے حوالے سے نئی پالیسی ایڈاپٹ کی گئی ہے جس کے تحت سرکاری فنڈز کے استعمال کے حوالے سے رسیدوں کی فوٹو کاپیاں نہیں مانگی جاسکتیں بلکہ صرف پی آئی او کی سٹیٹمنٹ کو ہی کافی سمجھا جائیگا تاکہ آفس ورکنگ smoothly جارہی رہے۔
دونوں کمشنرز نے اپنے فیصلے میں کمیشن کے روبرو ڈی جی ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے پی آئی او کے تحریری یا زبانی بیان کے بغیر ہی قرار دیدیا کہ سینکڑوں، ہزاروں فوٹو کاپیاں فراہم نہیں کی جاسکتیں۔

حالانکہ کمیشن کے روبرو 6 الگ الگ اپیلیں تھیں جنہیں کمیشن نےباز خود ایک ہی فیصلے میں ضم کرتے ہوئے آرڈر سنا دیا اور اپیل کنندہ کے زبانی اور تحریری اعتراض کو درخور اعتنا بھی نہ جانا۔

اس پر شہری نے کمیشن سے اپیلوں کے فیصلے کے حوالے سے ایڈاپٹ کی گئی نئی پالیسی کی مصدقہ کاپی کے لیئے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت درخواست دی تو مقررہ وقت( 14 روز )کے بعد بھی کمیشن نئی پالیسی کو نوٹیفائیڈ کرسکا نہ ہی اس کی کاپی شہری کو فراہم کی گئی۔

جبکہ قرار دیا گیا کہ کمیشن کے 16 فروری کے شہبازاکمل جندران بنام ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کیس میں یہ پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب محبوب قادر شاہ اور انفارمیشن کمشنر ڈاکٹر عارف مشتاق کا یہ فیصلہ عوامی حلقوں میں تنقید کی زد میں ہے اور اسے رائٹ ٹو انفارمیشن کی سپرٹ، آئین کے آرٹیکل 19 اے اور پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 سے متصادم قرار دیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں