دورہ آذربائجان 62

معروف ٹک ٹاکرز ،ماڈلز، بلاگرز اورصحافیوں کا دورہ آذربائجان، ثقافتی شہر باکو کی سیر و تفریح کی

لاہور(کامرس رپورٹر)نامورٹک ٹاکرز ،ماڈلز، بلاگرز اور صحافیوں کا دورہ آذربائجان۔ جہاں ان کو ثقافتی شہر باکو کی سیر تفریح کروائی گئی آذربائجان ائیرلائن اور میاں ٹریول کے تعاون سے چار روزہ دورے میں نامور ٹک ٹاکر عمر بٹ، حارث علی ،منیب خان، فاطمیش خان، سوہا افضل ،طیب عاصم، ،ندا خان، زویا علی، حسن علی، آصف خان ٫زرک خان حرا ٫وردہ ملک اور عمران راج سمیت دیگر شامل تھے منتظمین نے ثقافتی وفد کو ،فاو نٹین سکوائرلیم ٹاورز،میوزیم آف ماڈرن آرٹ،نظامی میوزیم،– 800 سال پرانا میڈن ٹاور،آذربائیجان کارپٹ میوزیم،باکو کرسٹل ہال،دنیزکناری ملی پارک،ساحلِ سمندر، اور وہاں مِنی کروز کی سیر،تازا پیر مسجد،حیدر علی مسجد،وائٹ فاو نٹین پارک ،میوزیم آف آرکیالوجی ،میریٹ ہوٹل کے سامنے ونٹر پارک،فائر ٹیمپل، اور اولڈ سٹی باکو کا دورہ کروایا گیا
 دورہ آذربائجان
اس موقع پر تمام شرکاءنے تفریح دورے کو یادگار بناتے ہوئے مختلف ویڈیو بلاگز تصاویر اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنائی جبکہ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ باکو شہر کے تفریح مقامات کی خوبصورتی نے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنالیا ہے باکو میں اندرون شہر کی تاریخی سفید عمارتوں کو پرکشش لائٹنگ، بہترین صفائی اس علاقے کو سیر، سکون، شاپنگ اور کھابے انجوائے کرنے کا مرکزی مقام بنایا گیا ہے یہاں ہر کوئی اپنا کوالٹی ٹائم انجوائے کر رہا ہوتا ہے، ہر برانڈ کی شاپ، ف وڈ چَینز، قحبہ خانے اور حمام یہاں میسر ہیں۔
 دورہ آذربائجان
ملحقہ شاپنگ اور اوپن ایریا فوڈ کورٹ ٹائپ جگہوں کی سیر سے تھک کر آپ شہر کے بالکل مرکزی چوک (فاو ¿نٹین سکوائر) میں آ جائیں تو وہاں سرسبز درختوں کے بیچوں بیچ ایک تاریخی فوارے کے گرد بیٹھ کر گھنٹوں گزارے جا سکتے ہیں ہم نے کسی تاریخی شہر کے بیچوں بیچ اتنی ہریالی پہلی بار دیکھی ہے باکو سٹی کے کلچر کے مطابق پارکس کے علاوہ بھی ہر جگہ پر آپکو بینچ ملتے ہیں۔ فاو ¿نٹین سکوائر میں بھی بینچز کی بہتات ہے۔ نظامی سٹریٹ کے بیچوں بیچ اور اس سے ملحقہ پرانے شہر کی گلیوں میں بھی سستانے کے ساتھ بینچ بنے ہوئے۔ جہاں مختلف لوگ بیٹھے گپ شپ لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔

کوئی گٹار پر گا رہا، کوئی ناچ رہا، کوئی آرٹسٹ اپنی پینٹنگز نمائش کیلئے پیش کر رہا۔ کوئی آرٹسٹ لائیو مصوری کر رہا، بچے کھیل رہے، والدین فوٹوگرافی کر رہے۔ اتنے رنگ اور مسکراہٹیں ایک ساتھ دیکھ کر انسان کی طبیعت ویسے ہی طبیعت گل و گلزار ہو جاتی ہے انہی گلیوں میں کہیں کوئی بہت جدید سٹرکچر دکھائی دے جاتا ہے تو کہیں کوئی انتہائی تاریخی آرکیٹیکچر۔ کہیں بیحد رونق ہے تو کہیں سکون ہی سکون۔ کوئی سڑک انتہائی کمرشل ہے تو کسی گلی میں مقامی خاندان صدیوں سے رہائش پذیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں