انتونیو گوتریس 10

مصنوعی ذہانت میں انسانی کنٹرول کے تسلسل کو یقینی بنانا ضروری ہے، گوتریس

ریاض (رپورٹنگ آن لائن)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خوف اور ہراس کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے ماہرین کی ایک نئی بین الاقوامی کمیٹی کی تشکیل کا اشارہ دیا جو انسانی کنٹرول کو ایک تکنیکی حقیقت بنانے کی کوشش کرے گی۔

گوتریس نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس گروپ میں 40 ارکان کی تقرری کی منظوری دے دی ہے جسے مصنوعی ذہانت پر آزاد بین الاقوامی سائنسی ٹیم کا نام دیا گیا ہے۔نئی دہلی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سربراہی اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ سائنس پر مبنی گورننس ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسے زیادہ محفوظ، منصفانہ اور وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بنا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیغام واضح ہے: خوف اور مبالغہ آرائی کو کم کریں اور حقائق و شواہد کو بڑھائیں۔یہ مشاورتی ادارہ گزشتہ اگست میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بالکل اسی طرح ایک حوالہ بننا ہے جیسے گلوبل وارمنگ کے شعبے میں موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل ہے۔ توقع ہے کہ یہ ٹیم جولائی میں مصنوعی ذہانت کی گورننس پر اقوام متحدہ کے عالمی مکالمے کے انعقاد کے ساتھ اپنی پہلی رپورٹ شائع کردے گی۔ اس باڈی کا مقصد حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کے لیے قواعد وضع کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے کیونکہ اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی نے ملازمتوں کے ضیاع، غلط معلومات، آن لائن بدسلوکی اور دیگر مسائل کے بارے میں عالمی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

گوتریس نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کی اختراعات اتنی تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہیں کہ وہ اسے مکمل طور پر سمجھنے اور اسے سنبھالنے کی ہماری اجتماعی صلاحیت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نامعلوم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب ہم سمجھ جائیں گے کہ یہ سسٹم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں، تو ہم محض اندازوں کی بنیاد پر کیے گئے اقدامات سے خطرے کی تشخیص پر مبنی زیادہ ہوشمندانہ کنٹرولز کی طرف منتقل ہو سکیں گے۔گوتریس نے اس ماہ اقوام متحدہ کی مصنوعی ذہانت سے متعلق کمیٹی میں شمولیت کے لیے تجویز کردہ ماہرین کی فہرست پیش کی۔

ان میں فلپائن سے تعلق رکھنے والی نوبل امن انعام یافتہ صحافی ماریہ ریسا اور کینیڈا کے مصنوعی ذہانت کے علمبردار یوشوا بینجیو شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد انسانی کنٹرول کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تکنیکی حقیقت بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کے لیے واضح جوابدہی کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داری کبھی بھی کسی الگورتھم کے سپرد نہ کی جائے۔توقع ہے کہ درجنوں عالمی رہنما اور وزرا مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عالمی حکمت عملی کا خاکہ پیش کرنے والا ایک بیان جاری کریں گے جو پانچ روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ہوگا جس کے کام کا مرکز یہ ٹیکنالوجی رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں