روم( رپورٹنگ آن لائن)کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی شناخت اور باہمی تعلقات کی جگہ لے سکتی ہے، رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور سماجی تفریق کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اپنے پیغام میں پوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام دراصل اپنے تخلیق کاروں کے عالمی نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور ان اعداد و شمار میں موجود تعصبات کو دہرا کر انسانی سوچ کے دھارے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔پوپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کی ترقی پر چند محدود کمپنیوں کا قبضہ ہے جو ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہیں، یہ ٹیکنالوجی حقیقت اور گمان کے درمیان فرق کو مشکل بنا رہی ہے،
لیو چہارم نے ان نظاموں پر بھی تنقید کی جو اعداد و شمار کی بنیاد پر محض امکانات کو مستند علم کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ صرف ایک تخمینہ ہوتے ہیں۔اپنے خطاب کے آخر میں پوپ نے اے آئی کے حوالے سے موثر گورننس اور عالمی قوانین کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا مطالبہ کیا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ الگورتھم کس طرح حقیقت کے بارے میں ان کے ادراک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔









