لاہور(رپورٹنگ آن لائن)مسلم لیگ (ن) کی صوبائی رہنما عظمیٰ بخاری نے وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنتا ہے ،2013 کے انتخابات سے پہلے انہوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے تھے، 2015 میں کوئی جادو کا چراغ ان کے پاس آیا کہ اثاثے بڑھ کر ایک ارب 35 کروڑ روپے ہوگئے،اس پرنوٹس کیوں نہیں لیا جاتا ، عمران خان کے ذرائع آمدن کیا ہیں ان کے پارٹی کے لوگوں کو بھی نہیں پتہ ، حکومتیں جب جاتی ہیں تب فائلیں کھلتی ہیں، لیکن ان کی تو کافی چیزیں ابھی سے سامنے آگئی ہیں ، کچھ چیزیں میرے پاس بھی ہیں، عثمان بزدار کا خاندان اس وقت ارب پتی ہے، اس کا نوٹس لیاجائے ،
عثمان بزدار وسیم اکرم پلس کے کارنامے عوام کے سامنے ضرور لائیں گے ۔ہفتہ کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے الیکشن کمیشن کے نوٹس پر کب جواب جمع کروایا ،الیکشن کمیشن نے ہر سال اثاثہ جات کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروایا جاتا ہے ،عثمان بزدار نے 2018میں دس لاکھ کے کم کے اثاثہ جات ظاہر کئے ،2015سے2017تک کوئی ٹیکس نہیں دیا ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ عثمان بزدار کے لگژری گاڑیاں ہیں ،کہتے ہیں کہ ان کو یہ گاڑی تحفے میں ملی، لگتا ہے کہ کسی نے عثمان کی معصوم شکل دیکھ کر انہیں یہ تحفہ دیا ہے ، اس گفٹ کے بدلے ان سے کیا کام لیا گیا سامنے لایا جائے ۔
عظمیٰ بخاری نے کہاکہ عثمان بزدار کا خاندان اس وقت ارب پتی خاندان ہے ،انہوں نے یہ اثاثہ جات فرنٹ مینوں کے ذریعے خریدے گئے ہیں یا انہیں چھپایا گیا ہے ،2015سے2017میں عثمان بزدار کی آمدنی3لاکھ 85ہزار900روپے تھی ، اچانک ان کے ہاتھ کونسا چراغ لگا جو اتنے مالدار ہوگئے ۔
انہوں نے کہا کہ طاہر خورشید المعروف ٹی کے صاحب اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتے وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں بنی گالہ یا ان کے ماسٹر کہتے ہیں ۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹی کے صاحب کو بھیجے گئے نوٹس کا حال شراب اسکینڈل جیسا نہیں ہونا چاہیے ،چیئرمین نیب وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف آٹا چینی اسکینڈل پر بھی نوٹس لے چکے ہیں اس کی تحقیقات ابھی تک سامنے نہیں آئیں ، عمران خان صاحب پہلے خود نوٹس لیتے ہیں پھر خود ہی کلین چٹ دے دیتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان جانتے ہیں کہ پنجاب میں نوکریاں اور تبادلے بک رہے ہیں ، ٹھیکوں پر کمیشن لیا جارہا ہے ۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عامر خان نے پی کے ،عمران خان نے جے کے اور عثمان بزدار نے ٹی کے کو متعارف کرایا ،عامر کیانی ،فردوس باجی ، ندیم بابر اور جہانگیر ترین کو کیسے کلین چٹ ملی سب جانتے ہیں ،(ن)لیگ کے رہنماﺅں سے دادا جی کے زمانے کے سوال پوچھے جاتے ہیں لیکن وزیراعظم کے حواریوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے وزیراعظم عمران خان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس عمران خان پر بنتا ہے۔2013 کے انتخابات سے پہلے انہوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے تھے، 2015 میں کوئی جادو کا چراغ ان کے پاس آیا کہ اثاثے بڑھ کر ایک ارب 35 کروڑ روپے ہوگئے،اس پروٹس کیوں نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ذرائع آمدن کیا ہیں ان کے پارٹی کے لوگوں کو بھی نہیں پتہ،عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ حکومتیں جب جاتی ہیں تب فائلیں کھلتی ہیں، لیکن ان کی تو کافی چیزیں ابھی سے سامنے آگئی ہیں۔ کچھ چیزیں میرے پاس بھی ہیں،عثمان بزدار وسیم اکرم پلس کے کارنامے عوام کے سامنے ضرور لاوں گی۔









