اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت ملک کے مستقبل کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) میں سولر سسٹم کی تنصیب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 55 سے زائد بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین دستیاب ہیں، سعودی عرب میں 43 اقسام کی بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی جا رہی ہے ،پاکستان میں اس وقت بچوں کو 13 اقسام کی ویکسین فراہم کی جا رہی ہے جس میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین بھی شامل ہے جو ڈبلیو ایچ او، گاوی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے خریدی جا رہی ہے۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ چند سال قبل کورونا وبا کے دوران امریکا، چین، بھارت اور یورپ سمیت کئی ممالک کا نظام صحت متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ محض ہسپتال بنانا ہیلتھ کیئر نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ پر توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ صحت کا نظام بچے کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت انڈونیشیا، چین اور سعودی عرب سے جدید ٹیکنالوجی لا رہی ہے جبکہ سعودی عرب کا 11 رکنی وفد حال ہی میں پاکستان کا دورہ بھی کر چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گاوی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے سولرائزیشن سسٹم فعال کر دیا گیا ہے اور ایک میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جس سے کسی بھی ایمرجنسی یا بجلی کی بندش کی صورت میں ویکسین محفوظ رہے گی۔مصطفی کمال نے کہا کہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 11 ہزار 600 شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے تحت علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے، پمز کے علاوہ 13 مزید ہسپتالوں میں شہریوں کا علاج جاری ہے تاکہ پمز اور پولی کلینک پر مریضوں کا دباؤ کم کیا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی موسیٰ خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئیکہا کہ امیونائزیشن پروگرام بچوں کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، ایکو فرینڈلی اور سٹیٹ آف دی آرٹ سولرائزیشن سسٹم کی تنصیب سے ویکسین کے دیرپا تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک میگاواٹ گرین انرجی کے ذریعے ویکسین سپلائی چین کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جبکہ آپریشنل اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔









