بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی قومی عوامی کانگریس کے سالانہ اجلاس کے دوران چین کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کو پوری دنیا میں خاصی توجہ حاصل ہو ۔
تقریباً 90 منٹ کی پریس کانفرنس اور21 سوالات میں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے چین کی خارجہ پالیسی کو تفصیل سے بیان کیا۔ بڑی طاقتوں کے تعلقات سے لے کر علاقائی تعاون تک، علاقائی تنازعات سے لے کر عالمی حکمرانی تک، اس پریس کانفرنس نے بیرونی دنیا پر واضح کیا کہ چین “ہنگامہ خیز دنیا کو سب سے قیمتی استحکام اور یقین فراہم کرتا ہے اور عالمی افراتفری کے دوران استحکام کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔”
گزشتہ سال کی مثال لیجیئے، بین الاقوامی ثالثی عدالت کے قیام سے لے کر کمبوڈیا-تھائی لینڈ تنازع میں ثالثی کے کردار تک، اور شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس میکانزم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے گلوبل ساوتھ میں خود انحصاری اور اپنی صلاحیت کو فروغ دینے تک، چین نے عالمی امن کو برقرار رکھنے اور عالمی حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے بھر پور کوششیں کی ہیں۔ حال ہی میں، ایران کی صورتحال بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہے۔ چین کا رویہ بہت واضح ہے کہ وہ تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ “جنگ بندی کی جائے”۔ چین نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ثالثی کے لیے خصوصی ایلچی بھی بھیجے گا۔ چین نے ایران اور مشرق وسطیٰ سے متعلق مسائل کو درست طریقے سے حل کرنے کے لیے پانچ اصول پیش کیے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی کو فروغ دیا جا سکے۔ فرانس کے میڈیا کے مطابق چین کا ایک بے ترتیب دنیا میں مستحکم کردار دن بہ دن نمایاں ہوتا جارہا ہے۔
چین میں ہونے والے این پی سی کے اجلاس میں نمائندے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودہ کے خاکے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف چین کی ترقی کے لیے ایک نیا خاکہ بلکہ عالمی تعاون کے لیے ایک نیا وژن بھی ہے۔ بیرونی دنیا نے دیکھا ہے کہ گزشتہ سال کے آخر سے یورپ، ایشیا، شمالی امریکہ اور لاطینی امریکہ کے رہنماؤں نے یکے بعد دیگرے چین کا دورہ کیا ہے، تاکہ تعاون کو گہرا کیا جاسکے اور چین کے ساتھ مشترکہ ترقی کی کوشش کی جاسکے۔
اس سال بھی، چین کے اعلیٰ رہنما کئی اہم غیر ملکی دورے کریں گے، اور چین تینتیسویں اپیک غیر رسمی رہنماؤں کی کانفرنس اور دوسرے چین-عرب ممالک سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ رواں سال چین کی سفارت کاری انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ ایک ہنگامہ خیز دنیا میں، پہاڑ جیسا مستحکم اور مضبوط چین نہ صرف چینی عوام بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک نعمت ہے۔








