کراچی (رپورٹنگ آن لائن) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں خرابی کے پیچھے بھارت ملوث رہا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے رشتے مضبوط ہو رہے ہیں۔گورنر ہاؤس میں مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے کی خوبصورت مثال ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے سلسلے میں ”امیدِ رمضان” کے تحت 19ویں افطار و ڈنر کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد صادق صداقت نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ مختلف مذاہب، قومیتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ گورنر سندھ نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پاکستان میں پیدائش سے مقیم بنگالی برادری کو درپیش مسائل، خصوصاً شناختی کارڈ کے مسئلے کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے قانون سازی سمیت ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائیں گے تاکہ کراچی میں مقیم بنگالی برادری کے افراد کو ان کا حق مل سکے۔
کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد صادق صداقت نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ افطار ڈنر اور فلاحی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ سب کے گورنر ہیں اور یہاں آ کر سب سے مل کر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔معروف اسکالر طلحہ رحمانی نے کہا کہ رمضان المبارک کی رونقیں حرمین شریفین کے بعد کراچی میں نظر آئیں جبکہ مسیحی رہنما امجد پاسٹر نے کہا کہ انہوں نے پوری دنیا کا سفر کیا لیکن گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری جیسی محبت کرنے والی شخصیت نہیں دیکھی۔تقریب کے دوران گورنر سندھ نے گلگت سے تعلق رکھنے والے نابینا نعت خواں عباس ابدالی کے لیے عمرہ کے ٹکٹ اور تمام انتظامات کرنے کا اعلان کیا جبکہ ان کی آنکھوں کے علاج کے اخراجات اٹھانے کا بھی اعلان کیا۔
پروگرام میں قرعہ اندازی کے ذریعے اسمارٹ سٹی کے پلاٹ کا اعلان بھی کیا گیا جس کی قرعہ اندازی بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے کی اور چار سدہ کے محمد فیصل کامیاب قرار پائے۔ اسی طرح سلائی مشینوں کی قرعہ اندازی میں کراچی کی سمارہ مقصود شیخ اور ممتاز بی بی جبکہ مانسہرہ کی سمیرا بی بی اور گجرات کی سیدہ ارم کے نام نکلے۔گورنر سندھ نے ایک خصوصی بچے کے لیے ماہانہ پچاس ہزار روپے وظیفہ دینے کا اعلان بھی کیا۔ مزید برآں پروگرام میں موجود ایک معذور بنگالی نوجوان کی خواہش پر گورنر سندھ نے اس کے لیے عمرہ کا ٹکٹ اور علاج کے اخراجات اٹھانے کا بھی اعلان کیا۔گورنر سندھ کی ہدایت پر پروگرام میں موجود بنگالی اسکاؤٹس کو موٹر سائیکلیں اور بنگالی برادری کے افراد کو عیدی دی گئی جبکہ تقریب میں شریک مسیحی برادری کے افراد کو بھی عیدی دی گئی۔








