احسن اقبال 11

مالی سال 2025ـ26 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کی معیشت استحکام اور بحالی کی جانب گامزن ہے،احسن اقبال

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مالی سال 2025ـ26 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کی معیشت استحکام اور بحالی کی جانب گامزن ہے،

پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم بطور قوم اس بحران اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں،توانائی بحران سے نکلنے کے لئے ہمیں غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنا ہوگا۔ہفتہ کو یہاں ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025ـ26 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کی معیشت استحکام اور بحالی کی جانب گامزن ہے، جو محتاط اور مربوط میکرو اکنامک پالیسیوں کے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں،حکومت کے شروع کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کے سفر میں الحمد للہ روز بروز بہتری دیکھی جا رہی ہے اور ہمارے معاشی اشاریے مثبت رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ خطے میں تیل کا ایک بڑا بحران پیدا ہوا ہے اور اس سے نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں،آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ تیل کی قیمت چند ماہ میں کس حد تک بڑھتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم بطور قوم اس بحران اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں،قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں سے ضروری اشیاء کی مستحکم سپلائی برقرار رہی۔ احسن اقبال نے بتایا کہ جولائی تا فروری 26ـ2025 میں اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی، جو پچھلے سال 5.9فیصد تھی، جبکہ فروری 2026 میں مہنگائی 7.0 فیصد ریکارڈ کی گئی،انڈے 22.4 فیصد ،مرغی 20.0 فیصد اور آلو 16 فیصد تک قیمتیں کم ہوئیں تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال اب بھی اندرونی مہنگائی کے لیے خطرہ ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ لارج سکیل مینو فیکچرنگ صنعت نے جولائی تا دسمبر 26ـ2025 کے دوران پائیدار اور وسیع پیمانے پرترقی کی جس میں سالانہ بنیاد پر 4.8 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا،22 شعبوں میں سے 14 شعبوں میں مثبت نمو دیکھی گئی جن میں گاڑیاں 67.2فیصد ، غیر دھاتیں معدنی مصنوعات 10.5فیصد، مشروبات 5.4فیصد، کوک اور پیٹرولیم مصنوعات 13.5فیصد، ملبوسات 7.5فیصد، خوراک 0.6فیصد، ٹیکسٹائل 1.5فیصد، تمباکو 8.7فیصد وغیرہ شامل ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ جولائی تا فروری 26ـ2025 کے دوران ٹیکس کلیکشنز 8.1 کھرب روپے تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال اسی عرصے میں 7.3 کھرب روپے تھیں، جس سے ٹیکس کی تعمیل میں بہتری، مؤثر انتظام اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا مظاہرہ ہوتا ہے،جولائی تا جنوری 2026 میں میں ترسیلات زر میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 20.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 23.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ یہ اضافہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور استحکام پر بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں،بیرونی شعبے میں جولائی تا جنوری 26ـ2025 کے دوران اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری دیکھی گئی جس میں اشیاء اور خدمات کی برآمدات 24 ارب ڈالر تک پہنچیں جبکہ درآمدات 44.4 ارب ڈالر تک بڑھیں۔احسن اقبال نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ خام مال اور سرمایہ کاری کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور درآمدی ٹریف ریگولیشن کی وجہ سے ہوا، جس کا مقصد تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور مسابقت کو بہتر بنانا تھا،سروسز ایکسپورٹ 4. 17 فیصد سے بڑھ کر 7.7 ارب ڈالر تک ہو گئی ہیںجس کی وجہ ریموٹ ڈیجیٹل سروسز، مالیاتی اور ٹرانسپورٹ سروسز کی توسیع اور بین الاقوامی مالیاتی و بیمہ خدمات میں اضافہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) میں 585 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی اور 403 ارب روپے کی فنڈنگ منظور کی گئی، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے عملدرآمد میں مستحکم پیش رفت ظاہر ہوتی ہے،ملک میں پی ایس ڈی پی کے تحت تسلی بخش کام جاری ہیں ، حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ تمام ترقیاتی کام بروقت مکمل ہوں۔

احسن اقبال نے کہا کہ جولائی تا فروری 26ـ2025 میں پی ایس ڈی پی کی استعمال کی شرح 36 فیصد رہی، جو کل مختص 1 کھرب روپے (361 ارب روپے) میں سے تھی، پچھلے سال 20فیصد (312.3 ارب روپے) تھی، جس سے ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافے کا پتہ چلتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی شعبے میں سی ڈی ڈبلیو پی نے چار منصوبے پوزیشن پیپر سمیت منظور کیے جبکہ پانچ منصوبے ایکنک کو حتمی منظوری کے لیے بھیجے گئے،حال ہی میں منظور شدہ منصوبے مختلف شعبوں میں تقریباً 18,366 براہِ راست اور 7,320 بالواسطہ ملازمتیں پیدا کریں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ جولائی تا جنوری 26ـ2025 میں ترقیاتی منصوبوں میں لاگت کی کفایت شعاری سے 9.9 ارب روپے کی بچت ہوئی، جو منصوبہ بندی میں محتاط رویے اور منصوبوں کی بہتر کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔جنوری 2026 میں وزارت نے 16 نصوبوں کی نگرانی اور 5 منصوبوں کا جائزہ لیا تاکہ مؤثر عملدرآمد اور مطلوبہ ترقیاتی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستانـ قازقستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت 5 سالہ روڈ میپ کی تیاری کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل پایا اور پہلا اجلاس 24 فروری 2026 کو منعقد ہوا تاکہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کے اہم شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے،اسلامی ترقیاتی بینک کے ساتھ 16 فروری 2026 کو ورچوئل اجلاس منعقد ہوا تاکہ ممبر ممالک کے پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2030ـ2026 کی تیاری کے حوالے سے مشاورت کی جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ 17 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان–بنگلہ دیش تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں